الادب المفرد - حدیث 862

كِتَابُ بَابُ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتِ: اسْتَأْذَنَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هِجَاءِ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((فَكَيْفَ بِنِسْبَتِي؟)) فَقَالَ: لَأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعْرَةُ مِنَ الْعَجِينِ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 862

کتاب بعض اشعار حکمت پر مبنی ہوتے ہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مشرکین کی ہجو بیان کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’میرے نسب کا کیا ہوگا؟‘‘ انہوں نے کہا:میں آپ کو ان سے ایسے نکال لوں گا جس طرح گوندھے ہوئے آٹے سے بال نکالا جاتا ہے۔
تشریح : دشمن کی مذمت میں شعر پڑھنے جائز ہیں۔ حضرت حسان رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرتے اور مشرکین کی مذمت کرتے۔ مذمتی شعروں میں عموماً حسب و نسب کا نقص بیان کیا جاتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسان سے کہا کہ جب انہوں نے ابو سفیان کی مذمت میں اشعار کی اجازت مانگی، میرا اور اس کا نسب ایک ہے تو پھر میرا کیا بنے گا جس پر حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے مذکورہ بالا بات کہی۔
تخریج : صحیح:أخرجه البخاري، کتاب الأدب:۶۱۵۰۔ ۳۵۳۱۔ ومسلم:۲۴۸۹۔ دشمن کی مذمت میں شعر پڑھنے جائز ہیں۔ حضرت حسان رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرتے اور مشرکین کی مذمت کرتے۔ مذمتی شعروں میں عموماً حسب و نسب کا نقص بیان کیا جاتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسان سے کہا کہ جب انہوں نے ابو سفیان کی مذمت میں اشعار کی اجازت مانگی، میرا اور اس کا نسب ایک ہے تو پھر میرا کیا بنے گا جس پر حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے مذکورہ بالا بات کہی۔