الادب المفرد - حدیث 853

كِتَابُ بَابُ كَيْفَ الْمَشْيُ مَعَ الْكُبَرَاءِ وَأَهْلِ الْفَضْلِ؟ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلٍ لَنَا - نَخْلٍ لِأَبِي طَلْحَةَ - تَبَرَّزَ لِحَاجَتِهِ، وَبِلَالٌ يَمْشِي وَرَاءَهُ، يُكْرِمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى جَنْبِهِ، فَمَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرٍ فَقَامَ، حَتَّى تَمَّ إِلَيْهِ بِلَالٌ، فَقَالَ: ((وَيْحَكَ يَا بِلَالُ، هَلْ تَسْمَعُ مَا أَسْمَعُ؟)) قَالَ: مَا أَسْمَعُ شَيْئًا، فَقَالَ: ((صَاحِبُ هَذَا الْقَبْرِ يُعَذَّبُ)) ، فَوُجِدَ يَهُودِيًّا

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 853

کتاب بڑوں اور بزرگوں کے ساتھ چلنے کے آداب سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے، یعنی ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے کھجوروں کے باغ میں تھے تو آپ قضائے حاجت کے لیے نکلے اور بلال رضی اللہ عنہ بھی آپ کی تکریم کے لیے پیچھے پیچھے چلے اور آپ کے ساتھ چلنے سے احتراز کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے تو رک گئے یہاں تک کہ بلال رضی اللہ عنہ بھی اچانک وہاں پہنچ گئے تو آپ نے پوچھا:افسوس تجھ پر اے بلال! کیا تمہیں سنائی دے رہا ہے جو میں سنتا ہوں؟‘‘ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے کہا:مجھے کچھ سنائی نہیں دے رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس قبر والے کو عذاب ہو رہا ہے۔‘‘ پھر پتہ چلا کہ وہ یہودی کی قبر ہے۔
تشریح : (۱)اس سے معلوم ہوا کہ بڑوں کے ساتھ چلنے میں آداب کو ملحوظ رکھا جائے اور ان کے پیچھے چلا جائے۔ ان سے آگے یا برابر چلنے سے اجتناب کیا جائے۔ (۲) اس سے عذاب قبر کا اثبات ہوا، نیز پتا چلا کہ دنیا والی قبر ہی میں عذاب ہوتا ہے اور اس کا انکار احادیث رسول کا انکار ہے۔ ایک حدیث میں ہے، آپ نے فرمایا:’’اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تم اپنے مردوں کو دفن نہیں کرو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ تمہیں بھی عذاب قبر سنائے جو میں سنتا ہوں۔ (صحیح مسلم، حدیث:۲۸۶۷)
تخریج : صحیح:أخرجه أحمد:۱۲۵۳۰۔ البیهقي في إثبات عذاب القبر:۹۴۔ (۱)اس سے معلوم ہوا کہ بڑوں کے ساتھ چلنے میں آداب کو ملحوظ رکھا جائے اور ان کے پیچھے چلا جائے۔ ان سے آگے یا برابر چلنے سے اجتناب کیا جائے۔ (۲) اس سے عذاب قبر کا اثبات ہوا، نیز پتا چلا کہ دنیا والی قبر ہی میں عذاب ہوتا ہے اور اس کا انکار احادیث رسول کا انکار ہے۔ ایک حدیث میں ہے، آپ نے فرمایا:’’اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تم اپنے مردوں کو دفن نہیں کرو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ تمہیں بھی عذاب قبر سنائے جو میں سنتا ہوں۔ (صحیح مسلم، حدیث:۲۸۶۷)