الادب المفرد - حدیث 841

كِتَابُ بَابُ حَزْنٍ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((مَا اسْمُكَ؟)) قَالَ: حَزْنٌ، قَالَ: ((أَنْتَ سَهْلٌ)) ، قَالَ: لَا أُغَيِّرُ اسْمًا سَمَّانِيهِ أَبِي.قَالَ ابْنُ الْمُسَيِّبِ: فَمَا زَالَتِ الْحُزُونَةُ فِينَا بَعْدُ. حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ فَحَدَّثَنِي، أَنَّ جَدَّهُ حَزْنًا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ((مَا اسْمُكَ؟)) قَالَ: اسْمِي حَزْنٌ، قَالَ: ((بَلْ أَنْتَ سَهْلٌ)) ، قَالَ: مَا أَنَا بِمُغَيِّرٍ اسْمًا سَمَّانِيهِ أَبِي قَالَ ابْنُ الْمُسَيِّبِ: فَمَا زَالَتْ فِينَا الْحُزُونَةُ بَعْدُ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 841

کتاب حزن نام رکھنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ اپنے دادا حزن بن وہب رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے پوچھا:’’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘ اس نے کہا:حزن۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تمہارا نام سہل ہے۔‘‘ اس نے کہا:میرے باپ نے جو میرا نام رکھا ہے میں اسے نہیں بدلوں گا۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا:اس کے بعد ہمیشہ غمگینی ہم میں چلی آرہی ہے۔سعید بن مسیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے دادا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے پوچھا:’’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا:میرا نام حزن ہے۔ آپ نے فرمایا:’’بلکہ آج کے بعد تمہارا نام سہل ہے۔‘‘ انہوں نے میرے باپ نے جو میرا نام رکھا ہے میں اسے بدلنے والا نہیں ہوں۔ ابن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں:پھر یہ غمزدگی ہم میں مسلسل چلی آرہی ہے۔
تشریح : (۱)حزن کے معنی غم اور پریشانی کے ہیں جو انسان سے چمٹ جائے۔ معنوی طور پر اس نام سے بدشگونی ظاہر ہوتی ہے اور اچھا تأثر نہیں ملتا اس لیے آپ نے اس نام کو بدل دیا۔ (۲) حزن بن وہب نے اپنی کم علمی اور سخت مزاجی کی بنا پر آپ کی بات پر عمل کرنے سے گریز کیا جس کی سزا انہیں یہ ملی کہ ان کی نسل میں اللہ تعالیٰ نے تند مزاجی اور غمگینی کو ہمیشہ کے لیے رکھ دیا۔ (۳) حزن نام نہیں رکھنا چاہیے اور اگر کوئی یہ نام رکھتا ہے اور پھر حزن ملال اس کے اخلاق میں در آتا ہے تو اسے خود کو ہی ملامت کرنی چاہیے۔ اس طرح کے دیگر ناموں سے بھی گریز کرنا ضروری ہے۔
تخریج : صحیح:أخرجه البخاري، کتاب الأدب:۶۱۹۰، ۶۱۹۳۔ وأبي داود:۴۹۵۶۔ (۱)حزن کے معنی غم اور پریشانی کے ہیں جو انسان سے چمٹ جائے۔ معنوی طور پر اس نام سے بدشگونی ظاہر ہوتی ہے اور اچھا تأثر نہیں ملتا اس لیے آپ نے اس نام کو بدل دیا۔ (۲) حزن بن وہب نے اپنی کم علمی اور سخت مزاجی کی بنا پر آپ کی بات پر عمل کرنے سے گریز کیا جس کی سزا انہیں یہ ملی کہ ان کی نسل میں اللہ تعالیٰ نے تند مزاجی اور غمگینی کو ہمیشہ کے لیے رکھ دیا۔ (۳) حزن نام نہیں رکھنا چاہیے اور اگر کوئی یہ نام رکھتا ہے اور پھر حزن ملال اس کے اخلاق میں در آتا ہے تو اسے خود کو ہی ملامت کرنی چاہیے۔ اس طرح کے دیگر ناموں سے بھی گریز کرنا ضروری ہے۔