الادب المفرد - حدیث 83

كِتَابُ بَابُ مَنْ كَرِهَ أَنْ يَتَمَنَّى مَوْتَ الْبَنَاتِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْحَارِثِ أَبِي الرَّوَّاعِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَجُلًا كَانَ عِنْدَهُ، وَلَهُ بَنَاتٌ فَتَمَنَّى مَوْتَهُنَّ، فَغَضِبَ ابْنُ عُمَرَ فَقَالَ: أَنْتَ تَرْزُقُهُنَّ؟

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 83

کتاب بیٹیوں کی موت کی تمنا کرنے کی ممانعت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے ہاں ایک شخص تھا جس کی بیٹیاں تھیں اس نے ان کے مرجانے کی خواہش کی تو ابن عمر رضی اللہ عنہما غضبناک ہوگئے اور فرمایا:تم انہیں رزق دیتے ہو؟
تشریح : شیخ البانی رحمہ اللہ نے ابو الرواع کی وجہ سے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے، تاہم بیٹیوں سے نفرت اور کراہت کافرانہ سوچ ہے۔ بیٹیوں کی پرورش گو آسان نہیں لیکن صبر و تحمل سے ان کی پرورش کرنے والے کے لیے جنت کی بشارت ہے جیسا کہ پہلے بیان ہوا ہے۔
تخریج : ضعیف۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے ابو الرواع کی وجہ سے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے، تاہم بیٹیوں سے نفرت اور کراہت کافرانہ سوچ ہے۔ بیٹیوں کی پرورش گو آسان نہیں لیکن صبر و تحمل سے ان کی پرورش کرنے والے کے لیے جنت کی بشارت ہے جیسا کہ پہلے بیان ہوا ہے۔