الادب المفرد - حدیث 825

كِتَابُ بَابُ شِهَابٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: شِهَابٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((بَلْ أَنْتَ هِشَامٌ))

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 825

کتاب شہاب نام رکھنے کا حکم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی کا ذکر ہوا جسے شہاب کہا جاتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’نہیں بلکہ تم ہشام ہو۔‘‘
تشریح : اس روایت سے معلوم ہوا کہ شہاب نام رکھنا ناپسندیدہ ہے۔ شہاب رات کو گرنے والے ستاروں کو کہتے ہیں اور در حقیقت اس سے مراد جہنم کا شعلہ ہے اس لیے یہ نام ناپسندیدہ ہے۔
تخریج : حسن:أخرجه الطیالسي:۱۶۰۴۔ وأحمد:۲۴۴۶۵۔ وابن حبان:۵۸۲۳۔ والحاکم:۴؍ ۳۰۸۔ انظر الصحیحة:۲۱۵۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ شہاب نام رکھنا ناپسندیدہ ہے۔ شہاب رات کو گرنے والے ستاروں کو کہتے ہیں اور در حقیقت اس سے مراد جہنم کا شعلہ ہے اس لیے یہ نام ناپسندیدہ ہے۔