الادب المفرد - حدیث 757

كِتَابُ بَابُ مَنْ لَمْ يَرَ بِحِكَايَةِ الْخَبَرِ بَأْسًا حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَمَّا قَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ بِالْجِعْرَانَةِ ازْدَحَمُوا عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِ اللَّهِ بَعَثَهُ اللَّهُ إِلَى قَوْمٍ، فَكَذَّبُوهُ وَشَجُّوهُ، فَكَانَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ جَبْهَتِهِ وَيَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي، فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْكِي الرَّجُلَ يَمْسَحُ عَنْ جَبْهَتِهِ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 757

کتاب کسی شخص کے پرانے واقعہ کو بیان کرنا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام جعرانہ پر حنین کی غنیمتیں تقسیم کیں تو لوگوں نے آپ کے پاس رش ڈال دیا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں میں سے ایک بندے کو ایک قوم کی طرف مبعوث فرمایا تو انہوں نے اس کو جھٹلا دیا اور زخمی کر دیا۔ وہ اپنی پیشانی سے خون صاف کرتے ہوئے فرما رہے تھے:’’اے اللہ میری قوم کو بخش دے کیونکہ وہ لا علم ہے۔‘‘ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:گویا ابھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ حکایت بیان کرتے ہوئے پیشانی مبارک پر ہاتھ پھیر رہے ہیں۔
تشریح : (۱)اس سے معلوم ہوا کہ کسی بات کو سمجھانے کے لیے حکایت بیان کرنا اور ساتھ عملاً کرکے دکھانے میں کوئی خرچ نہیں۔ یہ اس نقالی میں نہیں آتا جو ممنوع ہے۔ (۲) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور سابقہ انبیاء پر بہت زیادہ آزمائشیں آئیں حتی کہ ان کی قوم نے توحید کی پاداش میں انہیں مارا پیٹا لیکن انہوں نے پھر بھی ان کی ہدایت کے لیے دعا ہی فرمائی۔ (۳) یہ نبی کون تھے؟ اس کی وضاحت نہیں ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی ذات مراد ہے کہ جب طائف والوں کو دعوت دینے کے موقع پر آپ کو زخمی کیا گیا تو آپ نے یہ دعا فرمائی۔
تخریج : حسن:أخرجه أحمد:۴۰۵۷۔ وأبي یعلیٰ:۴۹۷۱۔ ورواه البخاري:۳۴۷۷۔ ومسلم:۱۷۹۲۔ مختصراً انظر الصحیحة:۳۱۷۵۔ (۱)اس سے معلوم ہوا کہ کسی بات کو سمجھانے کے لیے حکایت بیان کرنا اور ساتھ عملاً کرکے دکھانے میں کوئی خرچ نہیں۔ یہ اس نقالی میں نہیں آتا جو ممنوع ہے۔ (۲) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور سابقہ انبیاء پر بہت زیادہ آزمائشیں آئیں حتی کہ ان کی قوم نے توحید کی پاداش میں انہیں مارا پیٹا لیکن انہوں نے پھر بھی ان کی ہدایت کے لیے دعا ہی فرمائی۔ (۳) یہ نبی کون تھے؟ اس کی وضاحت نہیں ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی ذات مراد ہے کہ جب طائف والوں کو دعوت دینے کے موقع پر آپ کو زخمی کیا گیا تو آپ نے یہ دعا فرمائی۔