الادب المفرد - حدیث 750

كِتَابُ بَابُ نَفَقَةِ الرَّجُلِ عَلَى أَهْلِهِ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو رَافِعٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عِنْدِي دِينَارٌ؟ قَالَ: ((أَنْفِقْهُ عَلَى نَفْسِكَ)) ، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، فَقَالَ: " أَنْفِقْهُ عَلَى خَادِمِكَ - أَوْ قَالَ: عَلَى وَلَدِكَ "، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: ((ضَعْهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَهُوَ أَخَسُّهَا))

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 750

کتاب اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا:اے اللہ کے رسول! میرے پاس ایک دینار ہو تو کہاں خرچ کروں؟ آپ نے فرمایا:’’اپنی ذات پر خرچ کرو۔‘‘ اس نے کہا:اگر میرے پاس ایک اور ہو تو؟ آپ نے فرمایا:’’اپنے خادم پر خرچ کرو یا فرمایا:اپنی اولاد پر خرچ کرو۔‘‘ اس نے کہا:میرے پاس ایک اور ہو تو؟ آپ نے فرمایا:’’اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرو اس میں پہلی دو باتوں کی نسبت ثواب کم ہے۔‘‘
تشریح : یہ روایت آخری جملہ ضعہ....سے آخر تک کے بغیر صحیح ہے۔ اور اس میں بھی یہی تعلیم دی گئی ہے کہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنا انفاق في سبیل اللہ سے پہلے ہے، تاہم اپنی ضروریات پر دینی مصالح کو ترجیح دینا اس وقت باعث فضیلت ہے جب انسان صبر کرسکتا ہو۔ یہ نہ ہو کہ اللہ کی راہ میں دے کر خود لوگوں سے مانگتا پھرے۔
تخریج : صحیح لغیره دون قوله (ضعه....)۔ یہ روایت آخری جملہ ضعہ....سے آخر تک کے بغیر صحیح ہے۔ اور اس میں بھی یہی تعلیم دی گئی ہے کہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنا انفاق في سبیل اللہ سے پہلے ہے، تاہم اپنی ضروریات پر دینی مصالح کو ترجیح دینا اس وقت باعث فضیلت ہے جب انسان صبر کرسکتا ہو۔ یہ نہ ہو کہ اللہ کی راہ میں دے کر خود لوگوں سے مانگتا پھرے۔