الادب المفرد - حدیث 708

كِتَابُ بَابُ إِذَا خَافَ السُّلْطَانَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِذَا أَتَيْتَ سُلْطَانًا مَهِيبًا، تَخَافُ أَنْ يَسْطُوَ بِكَ، فَقُلِ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَعَزُّ مِنْ خَلْقِهِ جَمِيعًا، اللَّهُ أَعَزُّ مِمَّا أَخَافُ وَأَحْذَرُ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، الْمُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ أَنْ يَقَعْنَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، مِنْ شَرِّ عَبْدِكَ فُلَانٍ، وَجُنُودِهِ وَأَتْبَاعِهِ وَأَشْيَاعِهِ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ، اللَّهُمَّ كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّهِمْ، جَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَعَزَّ جَارُكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 708

کتاب جب بادشاہ کا ڈر ہو تو یہ دعا پڑھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:جب تم کسی ایسے بادشاہ کے پاس جاؤ جس سے لوگ ڈرتے ہوں اور تمہیں خوف ہو کہ وہ تم پر ظلم کرے گا تو یہ دعا پڑھا کرو:اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ تمام مخلوق سے بڑھ کر قوی ہے۔ اللہ اس سے بھی قوی اور طاقت والا ہے جس سے میں خوف کھاتا ہوں اور ڈرتا ہوں۔ میں اس ذات کی پناہ لیتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جو ساتوں آسمانوں کو زمین پر گرنے سے روکے ہوئے ہے مگر جب اس کی اجازت ہوگی (تو گر جائیں گے)تیرے فلاں بندے، اس کے گروہ، اس کے ساتھیوں اور اس کی جماعتوں کے شر سے وہ جنوں میں سے ہوں یا انسانوں میں سے۔ اے اللہ مجھے ان کے شر سے بچانے والا بن جا۔ تیری تعریف بہت زیادہ ہے اور جو تجھ سے پناہ مانگے وہ باعزت ہے اور تیرا اسم پاک بہت مبارک ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تین مرتبہ یہ دعا پڑھے۔
تشریح : دنیا کی تمام طاقتوں کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اس سے بڑھ کر تو کیا اس کے برابر بھی کوئی نہیں۔ دنیا کے جابر و ظالم اس کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ا س لیے مسلمانوں کو یہ حکم ہے کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ سے ڈریں لیکن اگر فطری اور طبعی خوف لاحق ہو جائے اور کسی انسان کے ظلم و جبر کا خدشہ ہو تو اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنی چاہیے اور اس کا طریقہ کار مذکورہ احادیث میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کبریائی اور وحدانیت کا واسطہ دے کر اس کے سامنے اپنی بے بسی اور کمزوری رکھی جائے۔ وہ یقیناً مایوس نہیں کرتا۔ لیکن اس کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر پختہ یقین ہو۔
تخریج : صحیح:أخرجه ابن أبي شیبة:۲۹۱۷۷۔ والخرائطی في المکارم:۱۰۴۲۔ والطبراني في الکبیر:۱۰؍۲۵۸۔ والبیهقي في الدعوات الکبیر:۴۷۳۔ انظر صحیح الترغیب:۲۲۳۸۔ دنیا کی تمام طاقتوں کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اس سے بڑھ کر تو کیا اس کے برابر بھی کوئی نہیں۔ دنیا کے جابر و ظالم اس کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ا س لیے مسلمانوں کو یہ حکم ہے کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ سے ڈریں لیکن اگر فطری اور طبعی خوف لاحق ہو جائے اور کسی انسان کے ظلم و جبر کا خدشہ ہو تو اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنی چاہیے اور اس کا طریقہ کار مذکورہ احادیث میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کبریائی اور وحدانیت کا واسطہ دے کر اس کے سامنے اپنی بے بسی اور کمزوری رکھی جائے۔ وہ یقیناً مایوس نہیں کرتا۔ لیکن اس کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر پختہ یقین ہو۔