الادب المفرد - حدیث 657

كِتَابُ بَابُ مَنْ تَعَوَّذَ بِاللَّهِ مِنَ الْكَسَلِ حَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَشَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 657

کتاب کاہلی اور سستی سے اللہ کی پناہ مانگنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم موت اور زندگی کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے تھے۔ عذاب قبر اور مسیح دجال کے شر سے بھی پناہ طلب کرتے تھے۔
تشریح : (۱)کاہلی اور سستی یہ ہے کہ انسان وسائل کے ہوتے ہوئے بھی کچھ نہ کرسکے۔ دوسرے لفظوں میں آج کرتا ہوں، کل کرتا ہوں والا معاملہ ہو کہ انسان کوئی قابل تعریف کام نہ کرسکے۔ (۲) مغرم کے ایک معنی گناہ اور معاصی کے ہیں کہ انسان گناہ کی زندگی میں پڑ جائے کہ توبہ کی طرف سوچ ہی نہ جائے۔ دوسرے معنی اس کے قرض ہیں۔ یعنی ایسا قرض جس کو انسان ادا کرنے کی طاقت نہ رکھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا:آپ قرض سے اس قدر پناہ کیوں مانگتے ہیں؟ آپ نے فرمایا:’’آدمی جب مقروض ہو جاتا ہے تو بات کرتا ہے، پھر جھوٹ بولتا ہے۔ وعدہ کرتا ہے اور اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ (بخاری و مسلم) (۳) معزم کے معنی تاوان بھی ہیں کہ انسان کسی کی ذمہ داری اور ضمانت لے اور وہ شخص ادا نہ کرے تو وہ اس کے ذمے پڑ جائے۔ یا بلاوجہ کوئی نقصان ہو جائے اور چٹی پڑ جائے۔ ان سب باتوں سے اس میں پناہ طلب کی گئی ہے۔ دیگر باتوں کی وضاحت پہلے گزر چکی ہے۔ باب کے تحت دوسری حدیث سے ترجمۃ الباب اس طرح ثابت ہو گا کہ زندگی کے شر میں سستی بھی شامل ہے جس سے پناہ طلب کی گئی ہے۔
تخریج : صحیح:أخرجه البخاري، کتاب الجنائز، باب التعوذ من عذاب القبر:۱۳۷۷۔ ومسلم:۵۸۸۔ (۱)کاہلی اور سستی یہ ہے کہ انسان وسائل کے ہوتے ہوئے بھی کچھ نہ کرسکے۔ دوسرے لفظوں میں آج کرتا ہوں، کل کرتا ہوں والا معاملہ ہو کہ انسان کوئی قابل تعریف کام نہ کرسکے۔ (۲) مغرم کے ایک معنی گناہ اور معاصی کے ہیں کہ انسان گناہ کی زندگی میں پڑ جائے کہ توبہ کی طرف سوچ ہی نہ جائے۔ دوسرے معنی اس کے قرض ہیں۔ یعنی ایسا قرض جس کو انسان ادا کرنے کی طاقت نہ رکھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا:آپ قرض سے اس قدر پناہ کیوں مانگتے ہیں؟ آپ نے فرمایا:’’آدمی جب مقروض ہو جاتا ہے تو بات کرتا ہے، پھر جھوٹ بولتا ہے۔ وعدہ کرتا ہے اور اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ (بخاری و مسلم) (۳) معزم کے معنی تاوان بھی ہیں کہ انسان کسی کی ذمہ داری اور ضمانت لے اور وہ شخص ادا نہ کرے تو وہ اس کے ذمے پڑ جائے۔ یا بلاوجہ کوئی نقصان ہو جائے اور چٹی پڑ جائے۔ ان سب باتوں سے اس میں پناہ طلب کی گئی ہے۔ دیگر باتوں کی وضاحت پہلے گزر چکی ہے۔ باب کے تحت دوسری حدیث سے ترجمۃ الباب اس طرح ثابت ہو گا کہ زندگی کے شر میں سستی بھی شامل ہے جس سے پناہ طلب کی گئی ہے۔