الادب المفرد - حدیث 633

كِتَابُ بَابٌ حَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّومِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قِيلَ لَهُ: إِنَّ إِخْوَانَكَ أَتَوْكَ مِنَ الْبَصْرَةِ - وَهُوَ يَوْمَئِذٍ بِالزَّاوِيَةِ - لِتَدْعُوَ اللَّهَ لَهُمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا، وَارْحَمْنَا، وَآتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ، فَاسْتَزَادُوهُ، فَقَالَ مِثْلَهَا، فَقَالَ: إِنْ أُوتِيتُمْ هَذَا، فَقَدْ أُوتِيتُمْ خَيْرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 633

کتاب باب حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے کہا گیا کہ آپ کے کچھ بھائی بصرہ سے آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ آپ ان کے لیے دعا کریں۔ حضرت انس ان دنوں زاویہ مقام پر تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یوں دعا کی:اے اللہ ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور ہمیں دنیا و آخرت میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔ انہوں نے مزید دعا کی درخواست کی تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے پھر اسی طرح دعا کی اور فرمایا:اگر تمہیں یہ مل گیا تو تمہیں دنیا و آخرت کی خیر مل گئی۔
تشریح : یہ دعا بہت عظیم اور جامع مانع ہے۔ یہ دعا مانع اس لحاظ سے ہے کہ اس میں کہا گیا ہے کہ مجھے دنیا اور آخرت میں ’’حسنۃ‘‘ بھلائی عطا کر، گویا جو چیز ظاہری طور پر اچھی ہے اور حقیقت میں اچھی نہیں اس کو اللہ کے سپرد کر کے کہا گیا ہے کہ اے اللہ اگر یہ چیز اچھی ہے یاجب یا جتنی اچھی ہے عطا کر ورنہ اس سے مجھے دور رکھ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیشتر یہ دعا پڑھا کرتے تھے اور طواف کے دوران بھی ان الفاظ سے دعا کرتے تھے۔ اللہ کی بخشش، اس کی رحمت اور دنیا و آخرت کی بھلائی مل جائے تو مزید کسی چیز کی ضرورت نہیں رہتی۔ نیز معلوم ہوا کہ کسی نیک بزرگ سے دعا کروانے کے لیے جانا جائز ہے۔
تخریج : صحیح:ورواه ابن حبان:۲؍ ۱۴۵، ۹۳۴۔ من طریق أبي یعلی وهذا في مسنده:۶؍ ۱۲۵، ۳۳۹۷۔ بسند صحیح عن ثابت وابن أبي شیبة:۶؍ ۷۷۔ یہ دعا بہت عظیم اور جامع مانع ہے۔ یہ دعا مانع اس لحاظ سے ہے کہ اس میں کہا گیا ہے کہ مجھے دنیا اور آخرت میں ’’حسنۃ‘‘ بھلائی عطا کر، گویا جو چیز ظاہری طور پر اچھی ہے اور حقیقت میں اچھی نہیں اس کو اللہ کے سپرد کر کے کہا گیا ہے کہ اے اللہ اگر یہ چیز اچھی ہے یاجب یا جتنی اچھی ہے عطا کر ورنہ اس سے مجھے دور رکھ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیشتر یہ دعا پڑھا کرتے تھے اور طواف کے دوران بھی ان الفاظ سے دعا کرتے تھے۔ اللہ کی بخشش، اس کی رحمت اور دنیا و آخرت کی بھلائی مل جائے تو مزید کسی چیز کی ضرورت نہیں رہتی۔ نیز معلوم ہوا کہ کسی نیک بزرگ سے دعا کروانے کے لیے جانا جائز ہے۔