الادب المفرد - حدیث 622

كِتَابُ بَابُ سَيِّدِ الِاسْتِغْفَارِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: مُعَقِّبَاتٌ لَا يَخِيبُ قَائِلُهُنَّ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، مِائَةَ مَرَّةٍ. رَفَعَهُ ابْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ وَعَمْرُو بْنُ قَيْسٍ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 622

کتاب سید الاستغفار کا بیان سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ چند تسبیحات جو آگے پیچھے آنے والی ہیں، ان کا قائل کبھی محروم نہیں رہتا، وہ یہ ہیں ’’سبحان الله، الحمد لله، لا اله الا الله اور الله اکبر‘‘، سو مرتبہ۔ابن ابی انیسہ اور عمرو بن قیس نے اس کو مرفوعاً بیان کیا ہے۔
تشریح : (۱)ان تسبیحات سے مراد یہ ہے کہ جو شخص انہیں سوتے وقت یا نماز کے بعد پڑھتا ہے جیسا کہ آپ کا معمول تھا اور آپ نے فقراء مہاجرین کو بھی سکھائی تھیں تو وہ کبھی گھاٹے میں نہیں رہتا۔ اس لیے ان کا ورد ضرور کرنا چاہیے اور انہیں اپنی مصروفیات کا حصہ بنانا چاہیے۔ (۲) یہ اذکار تین طرح سے پڑھے جاسکتے ہیں: ٭ سبحان الله، الحمد لله تینتیس تینتیس مرتبہ اور الله اکبر چونتیس مرتبہ۔ ٭ مذکورہ تینوں کلمات تینتیس تینتیس مرتبہ اور ایک مرتبہ لا اله الا الله وحدہ لا شریك له، له الملك وله الحمد وهو علی کل شیئٍ قدیر۔ (مسلم:۱۳۵۲) ٭ سبحان الله، الحمد الله، الله اکبر، لا اله الا الله پچیس پچیس مرتبہ۔
تخریج : صحیح:أخرجه مسلم، کتاب المساجد:۱۴۴، ۵۹۶۔ والترمذي:۳۴۱۲۔ والنسائي:۱۳۴۹۔ انظر الصحیحة:۱۰۲۔ (۱)ان تسبیحات سے مراد یہ ہے کہ جو شخص انہیں سوتے وقت یا نماز کے بعد پڑھتا ہے جیسا کہ آپ کا معمول تھا اور آپ نے فقراء مہاجرین کو بھی سکھائی تھیں تو وہ کبھی گھاٹے میں نہیں رہتا۔ اس لیے ان کا ورد ضرور کرنا چاہیے اور انہیں اپنی مصروفیات کا حصہ بنانا چاہیے۔ (۲) یہ اذکار تین طرح سے پڑھے جاسکتے ہیں: ٭ سبحان الله، الحمد لله تینتیس تینتیس مرتبہ اور الله اکبر چونتیس مرتبہ۔ ٭ مذکورہ تینوں کلمات تینتیس تینتیس مرتبہ اور ایک مرتبہ لا اله الا الله وحدہ لا شریك له، له الملك وله الحمد وهو علی کل شیئٍ قدیر۔ (مسلم:۱۳۵۲) ٭ سبحان الله، الحمد الله، الله اکبر، لا اله الا الله پچیس پچیس مرتبہ۔