الادب المفرد - حدیث 566

كِتَابُ بَابُ مَنْ أَطْعَمَ أَخًا لَهُ فِي اللَّهِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ أَبُو الرَّبِيعِ قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ نَشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: لِأَنْ أَجْمَعَ نَفَرًا مِنْ إِخْوَانِي عَلَى صَاعٍ أَوْ صَاعَيْنِ مِنْ طَعَامٍ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى سُوقِكُمْ فَأُعْتِقَ رَقَبَةً

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 566

کتاب دینی بھائی کو کھانا کھلانے کا بیان سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:میں اپنے مسلمان بھائیوں کو اکٹھا کرکے ایک یا دو ٹوپے غلے کا کھانا کھلاؤں یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں تمہارے بازار کی طرف جاؤں اور ایک غلام آزاد کروں۔
تشریح : اس روایت کی سند ضعیف ہے، تاہم کھانا کھلانے کی فضیلت قرآن و حدیث میں کثرت سے آئی ہے، خصوصاً ضرورت مند مسلمانوں کو کھانا کھلانا بہت فضیلت والا کام ہے۔
تخریج : ضعیف:أخرجه ابن وهب في الجامع:۲۲۶۔ وابن أبي الدنیا في الإخوان:۱۹۹۔ اس روایت کی سند ضعیف ہے، تاہم کھانا کھلانے کی فضیلت قرآن و حدیث میں کثرت سے آئی ہے، خصوصاً ضرورت مند مسلمانوں کو کھانا کھلانا بہت فضیلت والا کام ہے۔