الادب المفرد - حدیث 548

كِتَابُ بَابُ الْكِبْرِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الصَّقْعَبِ بْنِ زُهَيْرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ عَلَيْهِ جُبَّةُ سِيجَانٍ، حَتَّى قَامَ عَلَى رَأْسِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ صَاحِبَكُمْ قَدْ وَضَعَ كُلَّ فَارِسٍ - أَوْ قَالَ: يُرِيدُ أَنْ يَضَعَ كُلَّ فَارِسٍ - وَيَرْفَعَ كُلَّ رَاعٍ، فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَجَامِعِ جُبَّتِهِ فَقَالَ: ((أَلَا أَرَى عَلَيْكَ لِبَاسَ مَنْ لَا يَعْقِلُ)) ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ نُوحًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ لِابْنِهِ: إِنِّي قَاصٌّ عَلَيْكَ الْوَصِيَّةَ، آمُرُكَ بِاثْنَتَيْنِ، وَأَنْهَاكَ عَنِ اثْنَتَيْنِ: آمُرُكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِنَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ، لَوْ وُضِعْنَ فِي كِفَّةٍ وَوُضِعَتْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فِي كِفَّةٍ لَرَجَحَتْ بِهِنَّ، وَلَوْ أَنَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ كُنَّ حَلْقَةً مُبْهَمَةً لَقَصَمَتْهُنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، فَإِنَّهَا صَلَاةُ كُلِّ شَيْءٍ، وَبِهَا يُرْزَقُ كُلُّ شَيْءٍ، وَأَنْهَاكَ عَنِ الشِّرْكِ وَالْكِبْرِ، فَقُلْتُ، أَوْ قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الشِّرْكُ قَدْ عَرَفْنَاهُ، فَمَا الْكِبْرُ؟ هُوَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا حُلَّةٌ يَلْبَسُهَا؟ قَالَ: ((لَا)) ، قَالَ: فَهُوَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا نَعْلَانِ حَسَنَتَانِ، لَهُمَا شِرَاكَانِ حَسَنَانِ؟ قَالَ: ((لَا)) ، قَالَ: فَهُوَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا دَابَّةٌ يَرْكَبُهَا؟ قَالَ: ((لَا)) ، قَالَ: فَهُوَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا أَصْحَابٌ يَجْلِسُونَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: ((لَا)) ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا الْكِبْرُ؟ قَالَ: ((سَفَهُ الْحَقِّ، وَغَمْصُ النَّاسِ))

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 548

کتاب تکبر کا بیان حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھے کہ ایک دیہاتی آیا۔ اس نے سیجان کا (ریشمی کناروں والا)جبہ پہن رکھا تھا۔ حتی کہ وہ آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے پاس آکر کھڑا ہوگیا۔ اس نے کہا:تمہارے صاحب، یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر گھوڑ سوار کو ذلیل کر دیا ہے یا کہا کہ ہر گھوڑ سوار یعنی باعزت کو ذلیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ہر چرواہے کو اونچا کر دیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جبے کے کنارے کو پکڑ کر فرمایا:’’میں دیکھتا نہیں کہ تونے بے وقوفوں والا لباس پہن رکھا ہے؟‘‘ پھر فرمایا:’’بے شک اللہ کے نبی نوح علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے اپنے بیٹے سے فرمایا:’’میں تمھیں ایک وصیت کرتا ہوں۔ دو باتوں کا تم کو حکم دیتا ہوں اور دو باتوں سے روکتا ہوں۔ میں تمھیں لا الہ الا اللہ کا حکم دیتا ہوں کیونکہ ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں اگر ایک پلڑے میں رکھ دیے جائیں اور لا الہ الا اللہ دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تو ان سب پر بھاری ہو جائے۔ اور اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں ایک مبہم حلقہ بن جائیں تو لا الہ الا اللہ ان سب کو توڑ دے گا۔ اور دوسرا سبحان اللہ وبحمدہ ہے۔ یہ ہر چیز کی نماز ہے اور اسی کی برکت سے ہر چیز کو رزق دیا جاتا ہے۔ اور میں تمہیں شرک اور تکبر سے منع کرتا ہوں۔‘‘ میں نے عرض کیا یا عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول! شرک کو تو ہم پہچان گئے، یہ تکبر کیا ہے؟ کیا وہ یہ ہے کہ ہم میںسے کسی کے پاس جوڑا ہو جسے وہ پہنتا ہو؟ آپ نے فرمایا:’’نہیں‘‘۔ اس نے کہا:کیا وہ یہ ہے کہ ہم میں سے کسی کے دو خوبصورت جوتے ہوں اور ان کے دو خوبصورت تسمے ہوں؟ آپ نے فرمایا:’’نہیں‘‘۔ اس نے عرض کیا:کیا ہم میں سے کسی کے پاس سواری کا جانور ہو جس پر وہ سوار ہوتا ہو یہ تکبر ہے؟ آپ نے فرمایا:’’نہیں‘‘۔ اس نے کہا:کیا کسی کے دوست احباب اس کے پاس بیٹھتے ہوں تو یہ تکبر ہے؟ آپ نے فرمایا:’’نہیں‘‘۔ اس نے عرض کیا:اللہ کے رسول! تو پھر تکبر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا:’’حق بات کو ٹھکرا دینا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا۔‘‘
تشریح : (۱)دیہاتی اور بدوی لوگ عموماً اکھڑ مزاج اور متکبر ہوتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر و نفاق کی شدت کا ذکر فرمایا ہے۔ کیونکہ حق بات کی قبولیت میں سب سے بڑی رکاوٹ تکبر ہے۔ (۲) اس شخص نے ریشمی لباس پہن رکھا تھا اور نہایت متکبرانہ لہجے میں بات کر رہا تھا اور حسب و نسب پر فخر کرتے ہوئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر تنقید کر رہا تھا اس لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کی اصلیت بتائی کہ تم بے وقوف ہو کیونکہ متکبر سے بڑھ کر کون بے وقوف ہوسکتا ہے۔ (۳) شرک اور تکبر دونوں کا ایک ساتھ ذکر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ دونوں ایسے مہلک گناہ ہیں جس سے انسان کے تمام عمل برباد ہو جاتے ہیں۔ حدیث قدسی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ((الکِبْرِیَاءُ رِدَائي والْعَظَمَةُ اِزَارِي فَمَنْ نَاَزَعَني واحدًا مِنْهُمَا قَذَفْتُهُ في النَّارِ))(سنن أبي داود، اللباس، حدیث:۴۰۹۰) ’’بڑائی میری چادر ہے اور عظمت وبزرگی میرا ازار ہے جو شخص ان میں سے ایک چیز بھی مجھ سے چھیننا چاہے گا میں اسے آگ میں ڈالوں گا۔‘‘ (۴) اس حدیث سے لا الہ الا اللہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے جو توحید باری تعالیٰ کی اساس ہے۔ اسی طرح سبحان اللہ وبحمدہ کی برکت سے اللہ تعالیٰ رزق عطا کرتا ہے۔ ان دونوں کلموں پر یقین، ان کے مطابق ایمان اور کثرت سے ان کا ذکر نہایت خیر و برکت کا باعث ہے۔ خود ساختہ وظائف اور شرکیہ دعاؤں کی بجائے ان کلمات کو حرز جان بنانا چاہیے۔ (۵) اچھا لباس پہننا یا اچھی سواری رکھنا تکبر نہیں ہے۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے بنائی ہیں۔ تکبر یہ ہے کہ آدمی کے سامنے حق بات آئے اور وہ اس کو ماننے سے تکبر اور انکار کرے۔ لوگوں کو حقیر سمجھے اور خود کو بڑا سمجھے حالانکہ سبھی لوگ آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اور سب کا دنیا میں آنے کا ایک ہی طریقہ ہے، پھر یہ بڑائی انسان کو کیسے زیب دیتی ہے۔
تخریج : صحیح:أخرجه أحمد:۶۵۸۳۔ والطبراني في الکبیر:۱۳؍ ۶۔ والحاکم:۱؍ ۱۱۲۔ انظر الصحیحة:۱۳۴۔ (۱)دیہاتی اور بدوی لوگ عموماً اکھڑ مزاج اور متکبر ہوتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر و نفاق کی شدت کا ذکر فرمایا ہے۔ کیونکہ حق بات کی قبولیت میں سب سے بڑی رکاوٹ تکبر ہے۔ (۲) اس شخص نے ریشمی لباس پہن رکھا تھا اور نہایت متکبرانہ لہجے میں بات کر رہا تھا اور حسب و نسب پر فخر کرتے ہوئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر تنقید کر رہا تھا اس لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کی اصلیت بتائی کہ تم بے وقوف ہو کیونکہ متکبر سے بڑھ کر کون بے وقوف ہوسکتا ہے۔ (۳) شرک اور تکبر دونوں کا ایک ساتھ ذکر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ دونوں ایسے مہلک گناہ ہیں جس سے انسان کے تمام عمل برباد ہو جاتے ہیں۔ حدیث قدسی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ((الکِبْرِیَاءُ رِدَائي والْعَظَمَةُ اِزَارِي فَمَنْ نَاَزَعَني واحدًا مِنْهُمَا قَذَفْتُهُ في النَّارِ))(سنن أبي داود، اللباس، حدیث:۴۰۹۰) ’’بڑائی میری چادر ہے اور عظمت وبزرگی میرا ازار ہے جو شخص ان میں سے ایک چیز بھی مجھ سے چھیننا چاہے گا میں اسے آگ میں ڈالوں گا۔‘‘ (۴) اس حدیث سے لا الہ الا اللہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے جو توحید باری تعالیٰ کی اساس ہے۔ اسی طرح سبحان اللہ وبحمدہ کی برکت سے اللہ تعالیٰ رزق عطا کرتا ہے۔ ان دونوں کلموں پر یقین، ان کے مطابق ایمان اور کثرت سے ان کا ذکر نہایت خیر و برکت کا باعث ہے۔ خود ساختہ وظائف اور شرکیہ دعاؤں کی بجائے ان کلمات کو حرز جان بنانا چاہیے۔ (۵) اچھا لباس پہننا یا اچھی سواری رکھنا تکبر نہیں ہے۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے بنائی ہیں۔ تکبر یہ ہے کہ آدمی کے سامنے حق بات آئے اور وہ اس کو ماننے سے تکبر اور انکار کرے۔ لوگوں کو حقیر سمجھے اور خود کو بڑا سمجھے حالانکہ سبھی لوگ آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اور سب کا دنیا میں آنے کا ایک ہی طریقہ ہے، پھر یہ بڑائی انسان کو کیسے زیب دیتی ہے۔