الادب المفرد - حدیث 537

كِتَابُ بَابُ أَيْنَ يَقْعُدُ الْعَائِدُ؟ حَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: ذَهَبْتُ مَعَ الْحَسَنِ إِلَى قَتَادَةَ نَعُودُهُ، فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَسَأَلَهُ ثُمَّ دَعَا لَهُ قَالَ: اللَّهُمَّ اشْفِ قَلْبَهُ، وَاشْفِ سَقَمَهُ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 537

کتاب عیادت کرنے والا کہاں بیٹھے ربیع بن عبداللہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں حسن رحمہ اللہ کے ساتھ قتادہ رحمہ اللہ کی تیمار داری کے لیے گیا تو وہ ان کے سرہانے بیٹھ گئے اور ان کا حال دریافت کیا، پھر ان کے لیے ان الفاظ میں دعا کی:اے اللہ اس کے دل کو شفایاب کر دے اور اس کو بیماری سے صحت عطا فرما۔
تشریح : اس سے معلوم ہوا کہ عیادت کرنے والے کو مریض کے سر کے قریب بیٹھنا چاہیے اور اس کے مطالبے کے بغیر اسے دم کرنا چاہیے۔
تخریج : صحیح:کذا الأصل، وفي تهذیب الکمال:۹؍ ۹۶۔ وفي ترجمة الربیع بن عبداللّٰه هذا وهو ابن خُطاف الاحدب۔ اس سے معلوم ہوا کہ عیادت کرنے والے کو مریض کے سر کے قریب بیٹھنا چاہیے اور اس کے مطالبے کے بغیر اسے دم کرنا چاہیے۔