الادب المفرد - حدیث 496

كِتَابُ بَابُ الْعِيَادَةِ جَوْفَ اللَّيْلِ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الرَّبِيعِ قَالَ: لَمَّا ثَقُلَ حُذَيْفَةُ سَمِعَ بِذَلِكَ رَهْطُهُ وَالْأَنْصَارُ، فَأَتَوْهُ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ أَوْ عِنْدَ الصُّبْحِ، قَالَ: أَيُّ سَاعَةٍ هَذِهِ؟ قُلْنَا: جَوْفُ اللَّيْلِ أَوْ عِنْدَ الصُّبْحِ، قَالَ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ صَبَاحِ النَّارِ، قَالَ: جِئْتُمْ بِمَا أُكَفَّنُ بِهِ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: لَا تُغَالُوا بِالْأَكْفَانِ، فَإِنَّهُ إِنْ يَكُنْ لِي عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ بُدِّلْتُ بِهِ خَيْرًا مِنْهُ، وَإِنْ كَانَتِ الْأُخْرَى سُلِبْتُ سَلْبًا سَرِيعًا " قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ: أَتَيْنَاهُ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 496

کتاب رات کے وقت مریض کی عیادت کرنا حضرت خالد بن ربیع کہتے ہیں کہ جب سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیماری شدت اختیار کر گئی تو اس کی خبر ان کے احباب اور انصار کو پہنچی تو وہ آدھی رات یا سحری کے قریب ان کی تیمار داری کے لیے آئے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا:یہ کون سا وقت ہے؟ ہم نے کہا:آدھی رات یا سحری کا وقت ہے۔ انہوں نے کہا:میں ایسی صبح سے اللہ کی پناہ مانگتا جس میں دوزخ میں داخلہ ہو۔ پھر فرمایا:تم میرے لیے کفن لائے ہو؟ ہم نے کہا:ہاں! انہوں نے فرمایا:میرا کفن زیادہ قیمتی کپڑے کا نہ بنانا کیونکہ اگر میرے لیے اللہ کے ہاں خیر ہے تو اس سے بہتر بدل دیا جائے گا اور اگر کوئی دوسرا معاملہ ہوا تو یہ بھی بہت جلد مجھ سے چھین لیا جائے گا۔ ابن ادریس کی روایت میں ہے کہ ہم رات کے کسی حصے میں ان کے پاس آئے۔
تشریح : (۱)اس سے معلوم ہوا کہ اگر رات کے وقت کسی آدمی کی طبیعت زیادہ خراب ہو جاتی ہے تو رات کے وقت ہی اس کی تیمار داری کی جاسکتی ہے بلکہ عزیز و اقارب اور دوست احباب کو فوراً پہنچنا چاہیے۔ (۲) انسان اگر سمجھے کہ اس کے مرنے کے بعد کوئی خلاف شرع کام ہوگا تو اسے چاہیے کہ موت سے پہلے اس سے منع کردے۔ (۳) حضرت حذیفہ بن یمان مدائن میں مقیم تھے۔ وہیں بیمار ہوئے تو انصار ان کی تیمار داری کے لیے آئے۔ (۴) قریب الوفات شخص کو جہنم سے پناہ طلب کرنی چاہیے اور اپنے رب کے پاس جانے کا شوق اور اس کی ذات عالی سے اچھی امید ہونی چاہیے۔
تخریج : ضعیف:أخرجه ابن ابي شیبة:۳۴۸۰۳۔ وعبدالرزاق:۶۲۱۱۔ والطبراني في الکبیر:۳؍ ۱۶۳۔ وأبو نعیم في الحلیة :۱؍ ۲۸۲۔ والحاکم:۳؍ ۴۲۹۔ (۱)اس سے معلوم ہوا کہ اگر رات کے وقت کسی آدمی کی طبیعت زیادہ خراب ہو جاتی ہے تو رات کے وقت ہی اس کی تیمار داری کی جاسکتی ہے بلکہ عزیز و اقارب اور دوست احباب کو فوراً پہنچنا چاہیے۔ (۲) انسان اگر سمجھے کہ اس کے مرنے کے بعد کوئی خلاف شرع کام ہوگا تو اسے چاہیے کہ موت سے پہلے اس سے منع کردے۔ (۳) حضرت حذیفہ بن یمان مدائن میں مقیم تھے۔ وہیں بیمار ہوئے تو انصار ان کی تیمار داری کے لیے آئے۔ (۴) قریب الوفات شخص کو جہنم سے پناہ طلب کرنی چاہیے اور اپنے رب کے پاس جانے کا شوق اور اس کی ذات عالی سے اچھی امید ہونی چاہیے۔