الادب المفرد - حدیث 493

كِتَابُ بَابُ كَفَّارَةِ الْمَرِيضِ حَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ سَلْمَانَ، وَعَادَ مَرِيضًا فِي كِنْدَةَ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ: أَبْشِرْ، فَإِنَّ مَرَضَ الْمُؤْمِنِ يَجْعَلُهُ اللَّهُ لَهُ كَفَّارَةً وَمُسْتَعْتَبًا، وَإِنَّ مَرَضَ الْفَاجِرِ كَالْبَعِيرِ عَقَلَهُ أَهْلُهُ ثُمَّ أَرْسَلُوهُ، فَلَا يَدْرِي لِمَ عُقِلَ وَلِمَ أُرْسِلَ "

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 493

کتاب مریض کے گناہوں کے کفارے کا بیان حضرت عبدالرحمن بن سعید اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ انہوں نے کندہ میں ایک مریض کی تیمار داری کی۔ جب وہ مریض کے پاس آئے تو انہوں نے اس سے کہا:خوش ہو جاؤ، بلاشبہ مومن کی بیماری کو اللہ تعالیٰ اس کے لیے گناہوں کا کفارہ اور رضا الٰہی کے حصول کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔ اور فاسق، فاجر آدمی کی بیماری ایسے اونٹ کی طرح ہے جس کو اس کے گھر والوں نے باندھ دیا ہو، پھر اس کو چھوڑ دیا۔ اسے معلوم ہی نہیں کہ اسے کیوں باندھا گیا اور کیوں چھوڑا گیا۔
تشریح : مسلمان کی بیماری اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے اور وہ اپنا جائزہ لیتا ہے کہ اس سے کون سا گناہ سرزد ہوا ہے۔ اس سے توبہ کرتا ہے اور آئندہ اپنے طرز زندگی کو بدل لیتا ہے اس کے برعکس کافر کو اجر و ثواب کی امید ہوتی ہے نہ وہ اس سے سبق سیکھتا ہے۔
تخریج : صحیح:أخرجه هناد في الزهد:۴۱۴۔ وابن أبي شیبة:۱۰۸۱۳۔ والبیهقي في الشعب:۱۲؍ ۳۱۱۔ جزء من حدیث طویل رواه أبي داود في کتاب الجنائز:۳۰۸۹۔ مسلمان کی بیماری اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے اور وہ اپنا جائزہ لیتا ہے کہ اس سے کون سا گناہ سرزد ہوا ہے۔ اس سے توبہ کرتا ہے اور آئندہ اپنے طرز زندگی کو بدل لیتا ہے اس کے برعکس کافر کو اجر و ثواب کی امید ہوتی ہے نہ وہ اس سے سبق سیکھتا ہے۔