الادب المفرد - حدیث 489

كِتَابُ بَابُ الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى قَالَ: اجْتَمَعَ مَسْرُوقٌ وَشُتَيْرُ بْنُ شَكَلٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَتَقَوَّضَ إِلَيْهِمَا حِلَقُ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ مَسْرُوقٌ: لَا أَرَى هَؤُلَاءِ يَجْتَمِعُونَ إِلَيْنَا إِلَّا لِيَسْتَمِعُوا مِنَّا خَيْرًا، فَإِمَّا أَنْ تُحَدِّثَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ فَأُصَدِّقَكَ أَنَا، وَإِمَّا أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ فَتُصَدِّقَنِي؟ فَقَالَ: حَدِّثْ يَا أَبَا عَائِشَةَ، قَالَ: هَلْ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ يَقُولُ: الْعَيْنَانِ يَزْنِيَانِ، وَالْيَدَانِ يَزْنِيَانِ، وَالرِّجْلَانِ يَزْنِيَانِ، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا سَمِعْتُهُ قَالَ: فَهَلْ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ يَقُولُ: مَا فِي الْقُرْآنِ آيَةٌ أَجْمَعَ لِحَلَالٍ وَحَرَامٍ وَأَمْرٍ وَنَهْيٍ، مِنْ هَذِهِ الْآيَةِ: ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى﴾ [النحل: 90] ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ قَالَ: فَهَلْ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ يَقُولُ: مَا فِي الْقُرْآنِ آيَةٌ أَسْرَعَ فَرَجًا مِنْ قَوْلِهِ: ﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا﴾ [الطلاق: 2] ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ قَالَ: فَهَلْ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ يَقُولُ: مَا فِي الْقُرْآنِ آيَةٌ أَشَدَّ تَفْوِيضًا مِنْ قَوْلِهِ: ﴿يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا﴾ [الزمر: 53] مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا سَمِعْتُهُ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 489

کتاب ظلم آخرت میں تاریکیاں ہوں گی حضرت ابو الضحیٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مسروق اور شتیر بن شکل مسجد میں اکٹھے ہوئے تو مسجد میں لوگوں کے حلقے ان دونوں کے پاس جمع ہوگئے۔ مسروق رحمہ اللہ نے کہا:یہ لوگ ہم سے خیر اور بھلائی کی باتیں سننے کے لیے ہی جمع ہوئے ہیں، لہٰذا آپ عبداللہ بن مسعود سے بیان کریں میں آپ کی تصدیق کروں گا یا میں ان سے بیان کرتا ہوں اور آپ میری تصدیق کریں۔ ابن شکل رحمہ اللہ نے کہا:ابو عائشہ آپ بیان کریں! انہوں (مسروق)نے کہا:کیا آپ نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا:آنکھیں زنا کرتی ہیں، ہاتھ زنا کرتے ہیں اور پاؤں بھی زنا کرتے ہیں اور شرمگاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا غلط ثابت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا:ہاں میں نے ان سے واقعی اس طرح سنا ہے۔ مسروق رحمہ اللہ نے کہا:کیا آپ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حلال حرام اور امر و نہی کے بارے میں قرآن مجید میں اس آیت ﴿إِنَّ اللّٰهَ یَأمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِیتَاءِ ذِی الْقُرْبَی﴾ سے زیادہ کوئی آیت جامع نہیں ہے؟ انہوں نے کہا:ہاں میں نے حضرت عبداللہ سے یہ سنا ہے۔ مسروق رحمہ اللہ نے فرمایا:کیا آپ نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قرآن میں کوئی آیت:﴿وَمَنْ یَتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا﴾ سے زیادہ بڑھ کر نہیں ہے جس پر عمل کرنے سے کشادگی کی راہ کھل جاتی ہو؟ شتیر رحمہ اللہ نے کہا:میں نے بھی واقعی ان سے اسی طرح سنا ہے۔ مسروق رحمہ اللہ نے فرمایا:کیا آپ نے عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ قرآن میں کوئی آیت ﴿یَا عِبَادِیَ الَّذِینَ أسْرَفُوا عَلَی أنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا﴾ سے زیادہ بڑھ کر نہیں ہے۔ جو بندوں کو تفویض سکھاتی ہو تو حضرت شتیر بن شکل رحمہ اللہ نے فرمایا:ہاں میں نے حضرت عبداللہ سے یہ سنا ہے۔
تشریح : (۱)سلف صالحین میں سیکھنے سکھانے کا ذوق بہت زیادہ تھا۔ لوگ مساجد میں حلقوں کی صورت میں بیٹھتے اور علماء سے استفادہ کرتے۔ علماء بھی خیر خواہی اور ہمدردی کے ساتھ لوگوں کی راہنمائی کرتے۔ امام مسروق رحمہ اللہ نے نہایت مؤثر انداز میں تزکیہ نفس کیا اور لوگوں کو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی احادیث بیان کیں۔ (۲) زنا کی ابتدا نظر بازی سے ہوتی ہے اس لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر کی حفاظت کا حکم دیا۔ جو شخص نظر کی حفاظت نہیں کرتا وہ آسانی سے برائی میں پڑ جاتا ہے۔ آنکھ کا زنا دیکھنا ہے، ہاتھوں کا زنا چھونا ہے اور پاؤں کا زنا اس کی طرف چل کر جانا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿وَلَا تَقربوا الزنا﴾ ’’زنا کے قریب نہ جاؤ، یعنی اس کے مبادیات سے بھی بچو۔ (۳) امام قرطبی ابن العربی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ بندے اور اللہ کے درمیان عدل یہ ہے کہ بندہ اللہ کے حق کو اپنے مفادات پر ترجیح دے۔ اپنی خواہشات پر اللہ کی رضا کو مقدم سمجھے۔ اس کی منع کردہ باتوں سے رک جائے اور احکام کو بجا لائے۔ اور بندوں کا باہم عدل یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کی خیر خواہی کریں اور چھوٹے بڑے معاملے میں خیانت سے باز رہیں اور جو ایک دوسرے سے تکلیف پہنچے اس پر صبر کیا جائے۔ احسان کا مطلب صحیح معنوں میں اللہ کی بندگی کرنا ہے، دوسرے لفظوں میں انسان کا باطن اس کے ظاہر سے بھی اچھا ہو۔ اور ایتاء ذی القربیٰ کا مطلب حقوق العباد کو ادا کرنا ہے۔ یوں یہ آیت حلال و حرام اور امر ونہی کی جامع ہے۔ (شرح صحیح الأدب المفرد) (۴) انسانیت کی معراج تقویٰ ہے۔ تمام مشکلات اور پریشانیوں کا حل اسی میں ہے۔ اللہ کا تقویٰ دل میں آجائے تو دنیا بھی آسان ہو جاتی ہے اور آخرت بھی بن جاتی ہے۔ (۵) انسان حلال حرام کا جس قدر پابند ہو، او امر و نواہی پر عمل پیرا ہو اور متقی بھی ہو لیکن جب تک اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسا نہ ہو اور اس کی ذات عالی سے حسن ظن نہ ہو کہ وہ گناہوں کو معاف کرکے توبہ قبول کرنے والا ہے اور ہر چیز کا اختیار اسی کے پاس ہے اس وقت تک نجات ممکن نہیں۔
تخریج : حسن:أخرجه الطبراني في الکبیر:۹؍ ۱۳۴۔ (۱)سلف صالحین میں سیکھنے سکھانے کا ذوق بہت زیادہ تھا۔ لوگ مساجد میں حلقوں کی صورت میں بیٹھتے اور علماء سے استفادہ کرتے۔ علماء بھی خیر خواہی اور ہمدردی کے ساتھ لوگوں کی راہنمائی کرتے۔ امام مسروق رحمہ اللہ نے نہایت مؤثر انداز میں تزکیہ نفس کیا اور لوگوں کو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی احادیث بیان کیں۔ (۲) زنا کی ابتدا نظر بازی سے ہوتی ہے اس لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر کی حفاظت کا حکم دیا۔ جو شخص نظر کی حفاظت نہیں کرتا وہ آسانی سے برائی میں پڑ جاتا ہے۔ آنکھ کا زنا دیکھنا ہے، ہاتھوں کا زنا چھونا ہے اور پاؤں کا زنا اس کی طرف چل کر جانا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿وَلَا تَقربوا الزنا﴾ ’’زنا کے قریب نہ جاؤ، یعنی اس کے مبادیات سے بھی بچو۔ (۳) امام قرطبی ابن العربی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ بندے اور اللہ کے درمیان عدل یہ ہے کہ بندہ اللہ کے حق کو اپنے مفادات پر ترجیح دے۔ اپنی خواہشات پر اللہ کی رضا کو مقدم سمجھے۔ اس کی منع کردہ باتوں سے رک جائے اور احکام کو بجا لائے۔ اور بندوں کا باہم عدل یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کی خیر خواہی کریں اور چھوٹے بڑے معاملے میں خیانت سے باز رہیں اور جو ایک دوسرے سے تکلیف پہنچے اس پر صبر کیا جائے۔ احسان کا مطلب صحیح معنوں میں اللہ کی بندگی کرنا ہے، دوسرے لفظوں میں انسان کا باطن اس کے ظاہر سے بھی اچھا ہو۔ اور ایتاء ذی القربیٰ کا مطلب حقوق العباد کو ادا کرنا ہے۔ یوں یہ آیت حلال و حرام اور امر ونہی کی جامع ہے۔ (شرح صحیح الأدب المفرد) (۴) انسانیت کی معراج تقویٰ ہے۔ تمام مشکلات اور پریشانیوں کا حل اسی میں ہے۔ اللہ کا تقویٰ دل میں آجائے تو دنیا بھی آسان ہو جاتی ہے اور آخرت بھی بن جاتی ہے۔ (۵) انسان حلال حرام کا جس قدر پابند ہو، او امر و نواہی پر عمل پیرا ہو اور متقی بھی ہو لیکن جب تک اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسا نہ ہو اور اس کی ذات عالی سے حسن ظن نہ ہو کہ وہ گناہوں کو معاف کرکے توبہ قبول کرنے والا ہے اور ہر چیز کا اختیار اسی کے پاس ہے اس وقت تک نجات ممکن نہیں۔