الادب المفرد - حدیث 479

كِتَابُ بَابُ اصْطِنَاعِ الْمَالِ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنْ قَامَتِ السَّاعَةُ وَفِي يَدِ أَحَدِكُمْ فَسِيلَةٌ، فَإِنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا تَقُومَ حَتَّى يَغْرِسَهَا فَلْيَغْرِسْهَا))

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 479

کتاب مال جمع کرنا اور اس کی حفاظت کرنا حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اگر قیامت قائم ہونے لگے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں کھجور کا پودا ہو تو اگر وہ قیامت برپا ہونے سے پہلے پہلے اسے لگا سکتا ہے تو لگا دے۔‘‘
تشریح : (۱)اس سے شجر کاری اور زراعت کی اہمیت و فضیلت معلوم ہوتی ہے کہ انسان کو اس پر بھی اجر ملتا ہے۔ اس کے لگائے ہوئے درخت سے جب تک لوگ فائدہ اٹھاتے رہیں گے یہ اس کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔ (۲) انسان جس طرح بڑوں کے لگائے ہوئے درختوں سے فائدہ اٹھاتا ہے اسی طرح اسے بھی بعد والوں کے لیے درخت لگانے چاہئیں تاکہ وہ اس سے فائدہ حاصل کرسکیں۔ یہ زہد کے منافي نہیں ہے۔ اس لیے زندگی کے آخری لمحے تک دنیا و آخرت کی محنت جاری رکھنی چاہیے اور خیر کے کاموں کو یہ سمجھ کر چھوڑ نہیں دینا چاہیے کہ میں نے کون سا زندہ رہنا ہے۔ (۳) آج کل مسلمانوں کی تمام پالیسیاں وقتی ہوتی ہیں جن کے فوائد وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی زندگی میں دیکھ سکیں۔ اس حدیث میں یہ ترغیب دلائی گئی ہے کہ انسان کو اس قدر خود غرض نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اپنی ذات تک سوچے بلکہ اسے دور رس نتائج کو سامنے رکھ کر کام کرنا چاہیے۔ دشمنان اسلام اسی نقطۂ نظر کے مطابق کام کر رہے ہیں اس لیے وہ مسلمانوں پر غالب ہیں۔
تخریج : صحیح:أخرجه أحمد:۱۲۹۰۲۔ وأبي داود الطیالسي:۲۱۸۱۔ وعبد بن حمید:۱۲۱۶۔ انظر الصحیحة:۹۔ (۱)اس سے شجر کاری اور زراعت کی اہمیت و فضیلت معلوم ہوتی ہے کہ انسان کو اس پر بھی اجر ملتا ہے۔ اس کے لگائے ہوئے درخت سے جب تک لوگ فائدہ اٹھاتے رہیں گے یہ اس کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔ (۲) انسان جس طرح بڑوں کے لگائے ہوئے درختوں سے فائدہ اٹھاتا ہے اسی طرح اسے بھی بعد والوں کے لیے درخت لگانے چاہئیں تاکہ وہ اس سے فائدہ حاصل کرسکیں۔ یہ زہد کے منافي نہیں ہے۔ اس لیے زندگی کے آخری لمحے تک دنیا و آخرت کی محنت جاری رکھنی چاہیے اور خیر کے کاموں کو یہ سمجھ کر چھوڑ نہیں دینا چاہیے کہ میں نے کون سا زندہ رہنا ہے۔ (۳) آج کل مسلمانوں کی تمام پالیسیاں وقتی ہوتی ہیں جن کے فوائد وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی زندگی میں دیکھ سکیں۔ اس حدیث میں یہ ترغیب دلائی گئی ہے کہ انسان کو اس قدر خود غرض نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اپنی ذات تک سوچے بلکہ اسے دور رس نتائج کو سامنے رکھ کر کام کرنا چاہیے۔ دشمنان اسلام اسی نقطۂ نظر کے مطابق کام کر رہے ہیں اس لیے وہ مسلمانوں پر غالب ہیں۔