الادب المفرد - حدیث 472

كِتَابُ بَابُ مَا يُعْطَى الْعَبْدُ عَلَى الرِّفْقِ حَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ، وَيُعْطِي عَلَيْهِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ)) وَعَنْ يُونُسَ، عَنْ حُمَيْدٍ مِثْلَهُ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 472

کتاب بندے کو نرمی پر جو کچھ ملتا ہے حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اللہ تعالیٰ لطیف و نرمی کرنے والا ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے اور نرمی پر وہ کچھ دیتا ہے جو سختی پر عطا نہیں کرتا۔‘‘
تشریح : (۱)اللہ تعالیٰ کی نرمی یہ ہے کہ وہ بندوں کا فوراً مواخذہ نہیں کرتا اور نافرمانوں کو فوراً سزا دینے کی بجائے انہیں مہلت دیتا ہے۔ (۲) نرمی سے اعمال صالحہ کی توفیق ملتی ہے اور معاملات درست ہوتے ہیں اور کامیابی و کامرانی نصیب ہوتی ہے اور آخرت میں بھی اجر و ثواب ملتا ہے۔ اسی طرح طلب رزق میں بھی نرمی اور تنگ دست پر آسانی کرنے سے اللہ تعالیٰ جس قدر نوازتا ہے کسی دوسری نیکی پر اس قدر عطا نہیں کرتا اور نہ سختی کرنے پر ہی اس قدر نوازا جاتا ہے بلکہ سختی انسان کو بدنما بنا دیتی ہے۔ (۳) جہاں نرمی اور سختی دونوں کرنی جائز ہوں وہاں نرمی سے کام لینا افضل ہے، البتہ جہاں سختی ضروری ہو، مثلاً حدود اللہ کے نفاذ میں تو وہاں نرمی کرنا ناجائز ہے۔
تخریج : صحیح:أخرجه أبي داود، کتاب الأدب:۴۸۰۷۔ (۱)اللہ تعالیٰ کی نرمی یہ ہے کہ وہ بندوں کا فوراً مواخذہ نہیں کرتا اور نافرمانوں کو فوراً سزا دینے کی بجائے انہیں مہلت دیتا ہے۔ (۲) نرمی سے اعمال صالحہ کی توفیق ملتی ہے اور معاملات درست ہوتے ہیں اور کامیابی و کامرانی نصیب ہوتی ہے اور آخرت میں بھی اجر و ثواب ملتا ہے۔ اسی طرح طلب رزق میں بھی نرمی اور تنگ دست پر آسانی کرنے سے اللہ تعالیٰ جس قدر نوازتا ہے کسی دوسری نیکی پر اس قدر عطا نہیں کرتا اور نہ سختی کرنے پر ہی اس قدر نوازا جاتا ہے بلکہ سختی انسان کو بدنما بنا دیتی ہے۔ (۳) جہاں نرمی اور سختی دونوں کرنی جائز ہوں وہاں نرمی سے کام لینا افضل ہے، البتہ جہاں سختی ضروری ہو، مثلاً حدود اللہ کے نفاذ میں تو وہاں نرمی کرنا ناجائز ہے۔