الادب المفرد - حدیث 456

كِتَابُ بَابُ مَنْ بَنَى حَدَّثَنَا عُمَرُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو السَّفَرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أُصْلِحُ خُصًّا لَنَا، فَقَالَ: ((مَا هَذَا؟)) قُلْتُ: أُصْلِحُ خُصَّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: ((الْأَمْرُ أَسْرَعُ مِنْ ذَلِكَ))

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 456

کتاب رہنے کے لیے گھر بنانے کا بیان حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمارے پاس سے گزر ہوا تو میں اپنا جھونپڑا ٹھیک کر رہا تھا (جو کہ بوسیدہ ہوگیا تھا)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:’’یہ کیا کر رہے ہو؟‘‘ میں نے عرض کیا:اللہ کے رسول! میں اپنی جھونپڑی ٹھیک کر رہا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’معاملہ (موت)اس سے زیادہ جلدی آنے والا ہے۔‘‘
تشریح : (۱)آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح اگر تم اس دیوار کو چھوڑ دیتے تو بہت جلد یہ گر جاتی اس لیے تم نے اس کی اصلاح ضروری سمجھی۔ اسی طرح زندگی اس سے بھی پہلے ختم ہوسکتی ہے اس لیے اعمال کی اصلاح اس سے بھی زیادہ اہم اور جلدی توجہ طلب ہے۔ (۲) اس سے معلوم ہوا کہ رہنے کے لیے گھر تعمیر کرنا اور اس کی مرمت وغیرہ کرنا جائز ہے۔
تخریج : صحیح:أخرجه أبي داود، کتاب الأدب، باب ماجاء في البناء:۵۲۳۵۔ والترمذي:۲۳۳۵۔ وابن ماجة:۴۱۶۰۔ (۱)آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح اگر تم اس دیوار کو چھوڑ دیتے تو بہت جلد یہ گر جاتی اس لیے تم نے اس کی اصلاح ضروری سمجھی۔ اسی طرح زندگی اس سے بھی پہلے ختم ہوسکتی ہے اس لیے اعمال کی اصلاح اس سے بھی زیادہ اہم اور جلدی توجہ طلب ہے۔ (۲) اس سے معلوم ہوا کہ رہنے کے لیے گھر تعمیر کرنا اور اس کی مرمت وغیرہ کرنا جائز ہے۔