الادب المفرد - حدیث 433

كِتَابُ بَابُ سِبَابِ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَبِالسَّنَدِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنِ ادَّعَى لِغَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ فَقَدْ كَفَرَ، وَمَنِ ادَّعَى قَوْمًا لَيْسَ هُوَ مِنْهُمْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، وَمَنْ دَعَا رَجُلًا بِالْكُفْرِ، أَوْ قَالَ: عَدُوُّ اللَّهِ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ إِلَّا حَارَتْ عَلَيْهِ "

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 433

کتاب مسلمان کو گالی دینا گناہ ہے اسی سند سے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا:’’جس نے جانتے بوجھتے اپنے باپ کے علاوہ کسی کو باپ بنایا اس نے (اللہ کے ساتھ)کفر کیا۔ اسی طرح جس نے کسی قوم میں سے ہونے کا دعویٰ کیا جبکہ وہ ان میں سے نہیں ہے اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانا آگ بنا لے اور جس نے کسی آدمی کو کافر کہا یا یوں کہا کہ اے اللہ کے دشمن حالانکہ وہ ایسا نہیں ہے تو اس کا وبال کہنے والے پر پڑتا ہے۔‘‘
تشریح : (۱)جس شخص کو معلوم ہو کہ میرا باپ فلاں ہے لیکن وہ اس کے علاوہ کسی کو اپنا باپ پکارتا ہے تو ایسا شخص سخت گناہ گار ہے۔ اسے توبہ کرنی چاہیے۔ ہمارے ہاں عموماً جو لوگ بے اولاد ہوتے ہیں وہ کسی عزیز کا بچہ لے لیتے ہیں، اسے پالتے ہیں اور وہ انہی کے نام سے منسوب ہوتا ہے۔ کسی کا بچہ لے کر پالنا تو جائز ہے، تاہم اس کی نسبت اپنی طرف کرنا درست نہیں۔ اس کی نسبت اس کے حقیقی ماں باپ کی طرف ہوگی۔ اسی طرح وہ اپنے والدین کا وارث ہوگا۔ ان پالنے والوں کا نہیں۔ وہ زیادہ سے زیادہ ۳؍۱ مال اسے وصیت کے طور پر دے سکتے ہیں، باقی اصل وارثوں کا ہوگا۔ اسی طرح باقی وارثوں کو محروم کرنے کی غرض سے زندگی ہی میں سارا مال اس کے نام لگا دینا بھی ناجائز ہے۔ (۲) قبیلوں اور برادریوں کی تقسیم پہچان کے لیے ہے۔ کوئی برادری یا قبیلہ اپنے اوصاف کی وجہ سے شہرت اور عزت حاصل کرلیتا ہے تو لوگ اپنے آپ کو اس کی طرف منسوب کرلیتے ہیں۔ ایسا کرنا حرام ہے۔ یہ دھوکا ہے اس لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ (۳) جو کسی مسلمان کو کافر کہے جبکہ وہ ایسا نہ ہو تو کہنے والا خود کافر ہو جاتا ہے۔ اس میں تکفیری لوگوں کا رد بھی ہے جو اپنے علاوہ کسی کو مسلمان نہیں سمجھتے حالانکہ وہ خود اسلامی تعلیمات سے کوسوں دور ہیں۔
تخریج : صحیح:أخرجه البخاري، کتاب المناقب، باب:۵، ۳۵۰۸، ۶۰۴۵۔ ومسلم:۶۱۔ (۱)جس شخص کو معلوم ہو کہ میرا باپ فلاں ہے لیکن وہ اس کے علاوہ کسی کو اپنا باپ پکارتا ہے تو ایسا شخص سخت گناہ گار ہے۔ اسے توبہ کرنی چاہیے۔ ہمارے ہاں عموماً جو لوگ بے اولاد ہوتے ہیں وہ کسی عزیز کا بچہ لے لیتے ہیں، اسے پالتے ہیں اور وہ انہی کے نام سے منسوب ہوتا ہے۔ کسی کا بچہ لے کر پالنا تو جائز ہے، تاہم اس کی نسبت اپنی طرف کرنا درست نہیں۔ اس کی نسبت اس کے حقیقی ماں باپ کی طرف ہوگی۔ اسی طرح وہ اپنے والدین کا وارث ہوگا۔ ان پالنے والوں کا نہیں۔ وہ زیادہ سے زیادہ ۳؍۱ مال اسے وصیت کے طور پر دے سکتے ہیں، باقی اصل وارثوں کا ہوگا۔ اسی طرح باقی وارثوں کو محروم کرنے کی غرض سے زندگی ہی میں سارا مال اس کے نام لگا دینا بھی ناجائز ہے۔ (۲) قبیلوں اور برادریوں کی تقسیم پہچان کے لیے ہے۔ کوئی برادری یا قبیلہ اپنے اوصاف کی وجہ سے شہرت اور عزت حاصل کرلیتا ہے تو لوگ اپنے آپ کو اس کی طرف منسوب کرلیتے ہیں۔ ایسا کرنا حرام ہے۔ یہ دھوکا ہے اس لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ (۳) جو کسی مسلمان کو کافر کہے جبکہ وہ ایسا نہ ہو تو کہنے والا خود کافر ہو جاتا ہے۔ اس میں تکفیری لوگوں کا رد بھی ہے جو اپنے علاوہ کسی کو مسلمان نہیں سمجھتے حالانکہ وہ خود اسلامی تعلیمات سے کوسوں دور ہیں۔