الادب المفرد - حدیث 421

كِتَابُ بَابُ السِّبَابِ حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ الرُّؤَاسِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِصَاحِبِهِ: أَنْتَ عَدُوِّي، فَقَدْ خَرَجَ أَحَدُهُمَا مِنَ الْإِسْلَامِ، أَوْ بَرِئ مِنْ صَاحِبِهِ قَالَ قَيْسٌ: وَأَخْبَرَنِي بَعْدُ أَبُو جُحَيْفَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ قَالَ: إِلَّا مَنْ تَابَ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 421

کتاب گالیاں بکنے کی ممانعت حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:جب آدمی اپنے ساتھی سے کہے کہ تو میرا دشمن ہے تو ان میں سے ایک اسلام سے خارج ہو جاتا ہے یا اپنے ساتھی سے بری ہو جاتا ہے۔قیس کہتے ہیں کہ بعد ازاں مجھے ابو جحیفہ نے بتایا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا:ہاں جو توبہ کرلے (تو اور بات ہے)۔
تشریح : اس کی وضاحت ایک دوسری حدیث سے ہوتی ہے جسے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے کسی آدمی کو کافر کہہ کر پکارا یا یوں کہا کہ اللہ کے دشمن اور وہ اس طرح نہ ہو تو جملہ اس کہنے والے پر صادق آجاتا ہے اور وہ ایسا ہو جاتا ہے۔ (الأدب المفرد، ح:۴۳۳) اس لیے دوسروں کو ایسے القاب دینے سے حتی الوسع گریز کرنا چاہیے کیونکہ ایسا کہنے سے ایمان کو خطرہ ہے۔
تخریج : صحیح الاسناد:رواہ ابن الجعد في مسندہ:۷۸۔ والخلال في السنة:۱۲۸۴۔ والخرائطي في مساوي الأخلاق:۱۶۔ وابن الأعرابي في معجمه:۱۴۲۵۔ اس کی وضاحت ایک دوسری حدیث سے ہوتی ہے جسے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے کسی آدمی کو کافر کہہ کر پکارا یا یوں کہا کہ اللہ کے دشمن اور وہ اس طرح نہ ہو تو جملہ اس کہنے والے پر صادق آجاتا ہے اور وہ ایسا ہو جاتا ہے۔ (الأدب المفرد، ح:۴۳۳) اس لیے دوسروں کو ایسے القاب دینے سے حتی الوسع گریز کرنا چاہیے کیونکہ ایسا کہنے سے ایمان کو خطرہ ہے۔