الادب المفرد - حدیث 418

كِتَابُ بَابُ مَا ذُكِرَ فِي الْمَكْرِ وَالْخَدِيعَةِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْبَاطِ الْحَارِثِيُّ وَاسْمُهُ بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((الْمُؤْمِنُ غِرٌّ كَرِيمٌ، وَالْفَاجِرُ خَبٌّ لَئِيمٌ))

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 418

کتاب مکرو فریب اور دھوکا دہی کی مذمت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’مومن (دنیا کے بارے میں)بھولا بھالا اور کریم النفس ہوتا ہے جبکہ کافر اور منافق دھوکے باز، خبیث اور کمینہ ہوتا ہے۔‘‘
تشریح : (۱)مومن کا ظاہر اور باطن ایک ہوتا ہے۔ وہ جو زبان سے بولتا ہے اس کا دل بھی اس کی تصدیق کرتا ہے۔ وہ دنیا کے معاملات میں زیادہ باریک بینی کی طرف نہیں جاتا اور نہ لوگوں کے اندرونی حالات سے آگاہی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے بلکہ حسن ظن اور اچھا گمان کرتے ہوئے لوگوں پر اعتبار کرتا ہے۔ یہ اس کی جہالت کی وجہ سے نہیں بلکہ دل صاف ہونے اور ذہنی پاکیزگی کی وجہ سے ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کو بھی اپنی طرح سمجھتا ہے لیکن آخرت کے معاملے میں وہ باہمت اور بہت ہوشیار ہوتا ہے۔ اپنی آخرت کی بہتری کے لیے چاک و چوبند رہتا ہے۔ کاہلی اور سستی کا مظاہرہ نہیں کرتا۔ ایک حدیث میں ایسے لوگوں کو سب سے زیادہ دانا اور سمجھ دار کہا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((أفْضَلُ الْمُؤْمِنِینَ أحْسَنُهُمْ خُلُقًا وأکْیَسُهُمْ أکْثَرُهُمْ لِلْمَوْتِ ذِکْرًا وَأحَسَنُهُمْ لَهُ اسْتِعْدَادًا اَولئٰٓك الاکْیَاس۔))(الصحیحة للالباني، حدیث:۱۳۸۴) ’’مومنوں میں سے سب سے افضل وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو اور ان میں سے سب سے دانا وہ ہے جو موت کو سب سے زیادہ یاد کرنے والا اور اس کی سب سے اچھی تیاری کرنے والا ہو۔ یہی لوگ حقیقت میں سمجھ دار ہیں۔‘‘ (۲) منافق اور کافر کا ظاہر اور باطن مختلف ہوتا ہے۔ وہ نہایت چالاکی سے لوگوں کی ٹوہ لگاتا ہے اور فساد برپا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنے ساتھی کی بھی کسی لغزش سے درگزر نہیں کرتا چہ جائیکہ دشمن کو معاف کرے۔ وہ اس کے لیے نہایت گھٹیا حرکت بھی کرسکتا ہے جبکہ آخرت کے معاملے میں نہایت کاہل اور بے کار ہوتا ہے۔ (۳) فاجر سے مراد یہاں گناہ گار مسلمان نہیں بلکہ کافر اور منافق مراد ہے۔
تخریج : صحیح:أخرجه أبي داود، کتاب الأدب، باب في حسن العشرة:۴۷۹۰۔ والترمذي:۱۹۶۴۔ وانظر صحیح الترغیب:۲۶۰۹۔ (۱)مومن کا ظاہر اور باطن ایک ہوتا ہے۔ وہ جو زبان سے بولتا ہے اس کا دل بھی اس کی تصدیق کرتا ہے۔ وہ دنیا کے معاملات میں زیادہ باریک بینی کی طرف نہیں جاتا اور نہ لوگوں کے اندرونی حالات سے آگاہی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے بلکہ حسن ظن اور اچھا گمان کرتے ہوئے لوگوں پر اعتبار کرتا ہے۔ یہ اس کی جہالت کی وجہ سے نہیں بلکہ دل صاف ہونے اور ذہنی پاکیزگی کی وجہ سے ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کو بھی اپنی طرح سمجھتا ہے لیکن آخرت کے معاملے میں وہ باہمت اور بہت ہوشیار ہوتا ہے۔ اپنی آخرت کی بہتری کے لیے چاک و چوبند رہتا ہے۔ کاہلی اور سستی کا مظاہرہ نہیں کرتا۔ ایک حدیث میں ایسے لوگوں کو سب سے زیادہ دانا اور سمجھ دار کہا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((أفْضَلُ الْمُؤْمِنِینَ أحْسَنُهُمْ خُلُقًا وأکْیَسُهُمْ أکْثَرُهُمْ لِلْمَوْتِ ذِکْرًا وَأحَسَنُهُمْ لَهُ اسْتِعْدَادًا اَولئٰٓك الاکْیَاس۔))(الصحیحة للالباني، حدیث:۱۳۸۴) ’’مومنوں میں سے سب سے افضل وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو اور ان میں سے سب سے دانا وہ ہے جو موت کو سب سے زیادہ یاد کرنے والا اور اس کی سب سے اچھی تیاری کرنے والا ہو۔ یہی لوگ حقیقت میں سمجھ دار ہیں۔‘‘ (۲) منافق اور کافر کا ظاہر اور باطن مختلف ہوتا ہے۔ وہ نہایت چالاکی سے لوگوں کی ٹوہ لگاتا ہے اور فساد برپا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنے ساتھی کی بھی کسی لغزش سے درگزر نہیں کرتا چہ جائیکہ دشمن کو معاف کرے۔ وہ اس کے لیے نہایت گھٹیا حرکت بھی کرسکتا ہے جبکہ آخرت کے معاملے میں نہایت کاہل اور بے کار ہوتا ہے۔ (۳) فاجر سے مراد یہاں گناہ گار مسلمان نہیں بلکہ کافر اور منافق مراد ہے۔