الادب المفرد - حدیث 410

كِتَابُ بَابُ الشَّحْنَاءِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَنَافَسُوا، وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا))

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 410

کتاب دشمنی کا بیان حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’بدگمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے۔ اور بولی نہ چڑھاؤ اور نہ باہم حسد و بغض رکھو اور نہ (دنیا میں)ایک دوسرے سے مقابلہ بازی کرو اور نہ ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرو اور اللہ کے بندے، بھائی بھائی بن کر رہو۔‘‘
تشریح : (۱)کسی چیز میں شکوک و شبہات کا شکار ہوکر اس کی پیروی کرنا، خواہ دین میں ہو یا دنیاوی معاملات میں، اتباع ظن کہلاتا ہے۔ یہاں مطلب یہ ہے کہ بلاوجہ کسی پر تہمت لگانا، اس طرح کہ وہ آدمی اس میں مبتلا نہیں، مثلاً کسی آدمی کو شراب خانے میں دیکھ کر یہ حکم لگا دینا یہ شرابی ہے، ممکن ہے وہ اپنے کسی کام کی غرض سے وہاں گیا ہو۔ (۲) کسی مسلمان کی خرید و فروخت پر سودا کرنا ناجائز ہے، البتہ اگر دونوں بیک وقت خریدار ہوں تو پھر قیمت بڑھائی جاسکتی ہے لیکن یہ صرف اس وقت ہے جب مقصد چیز خریدنا ہو، دوسرے کو دھوکا دینا یا نقصان پہنچانا مقصود نہ ہو۔ منڈیوں میں صرف قیمت بڑھانے کے لیے جو بولی دی جاتی ہے، وہ ناجائز ہے۔ بسا اوقات بولی لگانے میں وہ آدمی بھی شریک ہو جاتا ہے۔ جو خریدنا نہیں چاہتا۔ وہ بائع کو فائدہ پہنچانے کے لیے بھاؤ زیادہ لگاتا ہے تاکہ اصل خریدار کو زیادہ قیمت ادا کرنی پڑے، یہ ناجائز ہے۔ (۳) حسد و بغض دین کا صفایا کر دیتا ہے، اور انسان اپنی نیکیوں کو خود آگ لگا دیتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دین کو مونڈ دینے والی پہلی امتوں کی بیماری قرار دیا ہے۔ (۴) دنیا مقابلہ بازی کی چیز نہیں بلکہ اس میں مقابلہ بازی تباہی کا باعث ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھے تم پر فقیری کا ڈر ہرگز نہیں۔ مجھے تمہارے بارے میں اس چیز کا خدشہ ہے کہ دنیا تم پر امڈ آئے گی اور تم اس میں مقابلہ بازی شروع کر دو گے اور نتیجتاً پہلی امتوں کی طرح تباہ ہو جاؤ گے۔‘‘ (صحیح البخاري، الجزیة، حدیث:۳۱۵۸) قرآن مجید نے جس مقابلہ بازی کی ترغیب اور اجازت دی ہے، وہ آخرت کے بارے میں ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَّفي ذٰلِكَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ﴾ ’’اور مقابلہ کرنے والوں کو اس (جنت کے حصول)میں مقابلہ کرنا چاہیے۔‘‘ (۵) ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک دوسرے سے ناراضی نہ رکھو کہ منہ موڑ کر گزر جاؤ۔ انسانی طبیعت کے پیش نظر زیادہ سے زیادہ تین دن تک ناراض ہونا جائز ہے۔ اس سے زیادہ ناراض ہونا جائز نہیں، تاہم کسی سے دین کی وجہ سے زیادہ دیر ناراض ہونا جائز ہے۔
تخریج : صحیح:أخرجه البخاري، کتاب الأدب:۶۰۶۴۔ ومسلم:۲۵۶۳۔ انظر غایة المرام:۴۱۷۔ (۱)کسی چیز میں شکوک و شبہات کا شکار ہوکر اس کی پیروی کرنا، خواہ دین میں ہو یا دنیاوی معاملات میں، اتباع ظن کہلاتا ہے۔ یہاں مطلب یہ ہے کہ بلاوجہ کسی پر تہمت لگانا، اس طرح کہ وہ آدمی اس میں مبتلا نہیں، مثلاً کسی آدمی کو شراب خانے میں دیکھ کر یہ حکم لگا دینا یہ شرابی ہے، ممکن ہے وہ اپنے کسی کام کی غرض سے وہاں گیا ہو۔ (۲) کسی مسلمان کی خرید و فروخت پر سودا کرنا ناجائز ہے، البتہ اگر دونوں بیک وقت خریدار ہوں تو پھر قیمت بڑھائی جاسکتی ہے لیکن یہ صرف اس وقت ہے جب مقصد چیز خریدنا ہو، دوسرے کو دھوکا دینا یا نقصان پہنچانا مقصود نہ ہو۔ منڈیوں میں صرف قیمت بڑھانے کے لیے جو بولی دی جاتی ہے، وہ ناجائز ہے۔ بسا اوقات بولی لگانے میں وہ آدمی بھی شریک ہو جاتا ہے۔ جو خریدنا نہیں چاہتا۔ وہ بائع کو فائدہ پہنچانے کے لیے بھاؤ زیادہ لگاتا ہے تاکہ اصل خریدار کو زیادہ قیمت ادا کرنی پڑے، یہ ناجائز ہے۔ (۳) حسد و بغض دین کا صفایا کر دیتا ہے، اور انسان اپنی نیکیوں کو خود آگ لگا دیتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دین کو مونڈ دینے والی پہلی امتوں کی بیماری قرار دیا ہے۔ (۴) دنیا مقابلہ بازی کی چیز نہیں بلکہ اس میں مقابلہ بازی تباہی کا باعث ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھے تم پر فقیری کا ڈر ہرگز نہیں۔ مجھے تمہارے بارے میں اس چیز کا خدشہ ہے کہ دنیا تم پر امڈ آئے گی اور تم اس میں مقابلہ بازی شروع کر دو گے اور نتیجتاً پہلی امتوں کی طرح تباہ ہو جاؤ گے۔‘‘ (صحیح البخاري، الجزیة، حدیث:۳۱۵۸) قرآن مجید نے جس مقابلہ بازی کی ترغیب اور اجازت دی ہے، وہ آخرت کے بارے میں ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَّفي ذٰلِكَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ﴾ ’’اور مقابلہ کرنے والوں کو اس (جنت کے حصول)میں مقابلہ کرنا چاہیے۔‘‘ (۵) ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک دوسرے سے ناراضی نہ رکھو کہ منہ موڑ کر گزر جاؤ۔ انسانی طبیعت کے پیش نظر زیادہ سے زیادہ تین دن تک ناراض ہونا جائز ہے۔ اس سے زیادہ ناراض ہونا جائز نہیں، تاہم کسی سے دین کی وجہ سے زیادہ دیر ناراض ہونا جائز ہے۔