الادب المفرد - حدیث 377

كِتَابُ بَابُ رَحْمَةِ الْعِيَالِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ وَمَعَهُ صَبِيٌّ، فَجَعَلَ يَضُمُّهُ إِلَيْهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((أَتَرْحَمُهُ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَاللَّهُ أَرْحَمُ بِكَ مِنْكَ بِهِ، وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ))

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 377

کتاب اہل و عیال پر رحمت و شفقت کرنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس کے ساتھ بچہ بھی تھا۔ وہ پیار سے اسے سینے سے لگانے لگا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا تم اس پر رحمت و شفقت کرتے ہو؟‘‘ اس نے کہا:ہاں۔ آپ نے فرمایا:’’اللہ تم پر اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جتنا تم اس (بچے)پر مہربان ہو۔ وہ تمام رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔‘‘
تشریح : (۱)اہل و عیال پر شفقت کرنا سنت نبوی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِأهْلِهِ وَأنَا خَیْرُکُمْ لِأهْلِی))(ترمذي:۳۸۹۵) ’’تم میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے اہل کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔‘‘ (۲) انسان اپنے اہل و عیال پر جس قدر رحمت و شفقت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے کہیں بڑھ کر اپنی مخلوق پر رحم کرنے والا ہے۔ اس لیے انسان کو رحمت الٰہی کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے۔
تخریج : صحیح:أخرجه النسائي في جزء فیه مجلسان:۲۔ والبیهقي في شعب الایمان:۷۱۳۴۔ وابن مندہ في التوحید:۳۶۰۔ (۱)اہل و عیال پر شفقت کرنا سنت نبوی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِأهْلِهِ وَأنَا خَیْرُکُمْ لِأهْلِی))(ترمذي:۳۸۹۵) ’’تم میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے اہل کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔‘‘ (۲) انسان اپنے اہل و عیال پر جس قدر رحمت و شفقت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے کہیں بڑھ کر اپنی مخلوق پر رحم کرنے والا ہے۔ اس لیے انسان کو رحمت الٰہی کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے۔