الادب المفرد - حدیث 373

كِتَابُ بَابُ ارْحَمْ مَنْ فِي الْأَرْضِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ مِخْرَاقٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَأَذْبَحُ الشَّاةَ فَأَرْحَمُهَا، أَوْ قَالَ: إِنِّي لَأَرْحَمُ الشَّاةَ أَنْ أَذْبَحَهَا، قَالَ: ((وَالشَّاةُ إِنْ رَحِمْتَهَا، رَحِمَكَ اللَّهُ)) مَرَّتَيْنِ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 373

کتاب اہل زمین پر رحم کرنے کا بیان قرۃ بن ایاس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک آدمی نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول! بلاشبہ میں بکری ذبح کرتا ہوں تو اس پر رحم کرتا ہوں۔ یا کہا کہ مجھے بکری ذبح کرتے ہوئے ترس آتا ہے۔ آپ نے فرمایا:’’اور بکری پر بھی اگر تو رحم کرے گا تو اللہ تجھ پر رحم کرے گا۔‘‘ آپ نے دو مرتبہ ایسے فرمایا۔
تشریح : رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے جہان والوں کے لیے رحمت بناکر مبعوث فرمایا اور آپ نے نہ صرف انسانوں کے ساتھ رحمت و شفقت کی تعلیم دی بلکہ جانوروں پر رحم کرنے کا حکم بھی دیا۔ آپ نے ایک شخص کو دیکھا جو قربانی کے جانور کے سامنے چھری تیز کر رہا تھا۔ آپ نے فرمایا:’’کیا تم اسے دو دفعہ مارنا چاہتے ہو۔‘‘ (الصحیحة للألباني، حدیث:۲۴) اسلام کو سفا کانہ مذہب کہنے والوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درج بالا فرمان پر غور کرنا چاہیے۔ جو جانوروں پر رحم کرنے کی ترغیب دیں وہ انسانوں پر ظلم کیسے کرسکتے ہیں لیکن اس کے برعکس آج اہل یورپ جانوروں کے حقوق کا تو خیال رکھتے ہیں لیکن انسانوں کو بے دریغ قتل کرتے ہیں۔
تخریج : صحیح:أخرجه أحمد:۱۵۵۹۲۔ وابن أبي شیبة:۵؍ ۲۱۴۔ والطبراني في الکبیر:۱۹؍ ۲۳۔ والحاکم:۳؍ ۵۸۷۔ انظر الصحیحة:۲۶۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے جہان والوں کے لیے رحمت بناکر مبعوث فرمایا اور آپ نے نہ صرف انسانوں کے ساتھ رحمت و شفقت کی تعلیم دی بلکہ جانوروں پر رحم کرنے کا حکم بھی دیا۔ آپ نے ایک شخص کو دیکھا جو قربانی کے جانور کے سامنے چھری تیز کر رہا تھا۔ آپ نے فرمایا:’’کیا تم اسے دو دفعہ مارنا چاہتے ہو۔‘‘ (الصحیحة للألباني، حدیث:۲۴) اسلام کو سفا کانہ مذہب کہنے والوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درج بالا فرمان پر غور کرنا چاہیے۔ جو جانوروں پر رحم کرنے کی ترغیب دیں وہ انسانوں پر ظلم کیسے کرسکتے ہیں لیکن اس کے برعکس آج اہل یورپ جانوروں کے حقوق کا تو خیال رکھتے ہیں لیکن انسانوں کو بے دریغ قتل کرتے ہیں۔