الادب المفرد - حدیث 371

كِتَابُ بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ لِلصَّغِيرِ: يَا بُنَيَّ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ قَالَ: سَمِعْتُ قَبِيصَةَ بْنَ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ، وَلَا يُغْفَرُ مَنْ لَا يَغْفِرُ، وَلَا يُعْفَ عَمَّنْ لَمْ يَعْفُ، وَلَا يُوقَّ مَنْ لَا يَتَوَقَّ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 371

کتاب چھوٹے بچے کو اپنا بیٹا کہہ کر بلانا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا:جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا اور جو معاف نہیں کرتا اسے معاف نہیں کیا جاتا اور اس سے درگزر نہیں کیا جاتا جو دوسروں سے درگزر نہیں کرتا اور جو گناہ سے بچنے کی کوشش نہیں کرتا اسے گناہ سے نہیں بچایا جاتا۔
تشریح : (۱)اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے عفو کی امید کرتے ہوئے لوگوں کی لغزشوں سے صرف نظر کرنی چاہیے۔ آسان زندگی کے لیے ضروری ہے کہ انسان خود کو معاف کرنے کی عادت ڈالے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْا اَلَا تُحِبُّونَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَکُمْ﴾ (النور:۲۲) ’’چاہے کہ وہ معاف کر دیں اور عفو و درگزر سے کام لیں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں معاف کر دے۔‘‘ (۲) انسان جس قدر عاجزی کا مظاہرہ کرکے اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسی قدر بندے کی قدر افزائی فرماتا ہے۔ اس لیے اس سے مانگتے ہوئے نہایت عاجزی کے ساتھ دست سوال دراز کرنا چاہیے۔ نیز جو بندہ گناہ کی زندگی چھوڑنا چاہے اور اپنے اس فعل میں مخلص ہو اللہ تعالیٰ ضرور اسے گناہ سے بچاتا ہے اور نیکی کی راہیں اس کے لیے آسان فرماتا ہے۔
تخریج : حسن:أخرجه أبي داود في الزهد:۸۲۔ والضبي في الدعاء:۱۴۷۔ وانظر الصحیحة:۴۸۳۔ (۱)اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے عفو کی امید کرتے ہوئے لوگوں کی لغزشوں سے صرف نظر کرنی چاہیے۔ آسان زندگی کے لیے ضروری ہے کہ انسان خود کو معاف کرنے کی عادت ڈالے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْا اَلَا تُحِبُّونَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَکُمْ﴾ (النور:۲۲) ’’چاہے کہ وہ معاف کر دیں اور عفو و درگزر سے کام لیں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں معاف کر دے۔‘‘ (۲) انسان جس قدر عاجزی کا مظاہرہ کرکے اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسی قدر بندے کی قدر افزائی فرماتا ہے۔ اس لیے اس سے مانگتے ہوئے نہایت عاجزی کے ساتھ دست سوال دراز کرنا چاہیے۔ نیز جو بندہ گناہ کی زندگی چھوڑنا چاہے اور اپنے اس فعل میں مخلص ہو اللہ تعالیٰ ضرور اسے گناہ سے بچاتا ہے اور نیکی کی راہیں اس کے لیے آسان فرماتا ہے۔