الادب المفرد - حدیث 367

كِتَابُ بَابُ مَسْحِ رَأْسِ الصَّبِيِّ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي الْهَيْثَمِ الْعَطَّارُ قَالَ: حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَّامٍ قَالَ: سَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوسُفَ، وَأَقْعَدَنِي عَلَى حِجْرِهِ، وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِي

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 367

کتاب بچے کے سر پر ہاتھ پھیرنا یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام یوسف رکھا، مجھے اپنی گود مبارک میں بٹھایا اور میرے سر پر ہاتھ پھیرا۔
تشریح : (۱)اس سے معلوم ہوا کہ بچوں کے سر پر بھی پیار اور شفقت سے ہاتھ پھیرنا جائز ہے، خصوصاً عالم دین اور بزرگ وغیرہ کے لیے مستحب ہے کہ وہ بچوں سے اس انداز میں شفقت کرے بلکہ روایات میں چھوٹے بچوں کا بوسہ لینے کا بھی ذکر ہے۔ (۲) اس سے معلوم ہوا کہ کسی نیک آدمی سے نام رکھوانا مستحب ہے۔
تخریج : صحیح:أخرجه أحمد:۲۳۸۳۶۔ والترمذي في الشمائل:۳۴۰۔ وابن أبي شیبة:۶۸۹۔ والطبراني في الکبیر:۲۲؍ ۲۸۵۔ والبیهقي في شعب الایمان:۱۱۰۳۳۔ (۱)اس سے معلوم ہوا کہ بچوں کے سر پر بھی پیار اور شفقت سے ہاتھ پھیرنا جائز ہے، خصوصاً عالم دین اور بزرگ وغیرہ کے لیے مستحب ہے کہ وہ بچوں سے اس انداز میں شفقت کرے بلکہ روایات میں چھوٹے بچوں کا بوسہ لینے کا بھی ذکر ہے۔ (۲) اس سے معلوم ہوا کہ کسی نیک آدمی سے نام رکھوانا مستحب ہے۔