الادب المفرد - حدیث 351

كِتَابُ بَابُ الرَّجُلِ يُحِبُّ قَوْمًا وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَلْحَقَ بِعَمَلِهِمْ؟ قَالَ: ((أَنْتَ يَا أَبَا ذَرٍّ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ)) ، قُلْتُ: إِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ: ((أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ يَا أَبَا ذَرٍّ))

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 351

کتاب اگر آدمی کسی سے محبت کرے لیکن (عملاً)اس جیسا نہ بن سکے تو؟ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول! اگر کوئی شخص کسی قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان جیسے اعمال کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تو؟ آپ نے فرمایا:’’اے ابوذر! تم اسی کے ساتھ ہوگے جس سے محبت کرتے ہو۔‘‘ میں نے عرض کیا:میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا:اے ابوذر! تم جس سے محبت کرتے ہو (روز قیامت)اسی کے ساتھ ہوگے۔‘‘
تشریح : (۱)اس باب اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی نیک سیرت آدمی سے محبت کرتا ہے اور اپنا کردار اور عمل اس جیسا بنانے کی کوشش کرتا ہے لیکن اس جیسا عمل نہیں کرپاتا تو اس محبت کی برکت سے اللہ تعالیٰ اس کو بھی نیکوں کے ساتھ ملا دے گا۔ اگر کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کرتا ہے تو قیامت کے دن اسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نصیب ہوگا اور ہر شخص کو اس کی محبت کے مطابق قرب نصیب ہوگا جبکہ آپ جنت میں سب سے اونچے درجے پر فائز ہوں گے۔ (۲) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی پابندی کی جائے اور منہیات سے باز رہا جائے، نیز شرعی آداب کو ملحوظ رکھا جائے۔ (۳) اس حدیث میں اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور صحابہ کرام سے محبت کرنے والے کے لیے خوشخبری ہے اور ان سے محبت نہ کرنے والے کے لیے ناکامی و نامرادی کے سوا کچھ نہیں۔ (۴) یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والا ایسے اعمال بجا نہ لاسکے جیسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بجا لاتے تھے لیکن وہ کبائر کا مرتکب اور حرمات کی پامالی کرنے والا ہرگز نہیں ہوسکتا۔
تخریج : صحیح:أخرجه أبي داود، کتاب الأدب، باب الرجل یحب الرجل علی خیر یراہ:۵۱۲۶۔ انظر صحیح الترغیب:۳۰۳۵۔ (۱)اس باب اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی نیک سیرت آدمی سے محبت کرتا ہے اور اپنا کردار اور عمل اس جیسا بنانے کی کوشش کرتا ہے لیکن اس جیسا عمل نہیں کرپاتا تو اس محبت کی برکت سے اللہ تعالیٰ اس کو بھی نیکوں کے ساتھ ملا دے گا۔ اگر کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کرتا ہے تو قیامت کے دن اسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نصیب ہوگا اور ہر شخص کو اس کی محبت کے مطابق قرب نصیب ہوگا جبکہ آپ جنت میں سب سے اونچے درجے پر فائز ہوں گے۔ (۲) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی پابندی کی جائے اور منہیات سے باز رہا جائے، نیز شرعی آداب کو ملحوظ رکھا جائے۔ (۳) اس حدیث میں اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور صحابہ کرام سے محبت کرنے والے کے لیے خوشخبری ہے اور ان سے محبت نہ کرنے والے کے لیے ناکامی و نامرادی کے سوا کچھ نہیں۔ (۴) یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والا ایسے اعمال بجا نہ لاسکے جیسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بجا لاتے تھے لیکن وہ کبائر کا مرتکب اور حرمات کی پامالی کرنے والا ہرگز نہیں ہوسکتا۔