الادب المفرد - حدیث 349

كِتَابُ بَابُ مَنْ زَارَ قَوْمًا فَطَعِمَ عِنْدَهُمْ حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: وَجَدَ عُمَرُ حُلَّةَ إِسْتَبْرَقٍ، فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اشْتَرِ هَذِهِ، وَالْبَسْهَا عِنْدَ الْجُمُعَةِ، أَوْ حِينَ تَقْدِمُ عَلَيْكَ الْوُفُودُ، فَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: ((إِنَّمَا يَلْبَسُهَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ)) ، وَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُلَلٍ، فَأَرْسَلَ إِلَى عُمَرَ بِحُلَّةٍ، وَإِلَى أُسَامَةَ بِحُلَّةٍ، وَإِلَى عَلِيٍّ بِحُلَّةٍ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْسَلْتَ بِهَا إِلَيَّ، لَقَدْ سَمِعْتُكَ تَقُولُ فِيهَا مَا قُلْتَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((تَبِيعُهَا، أَوْ تَقْضِي بِهَا حَاجَتَكَ))

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 349

کتاب جس کی زیارت کے لیے جائے اس کے پاس کھانا کھانے کا بیان سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے موٹے ریشم کا ایک جبہ (فروخت ہوتے)دیکھا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آئے اور عرض کیا:(اللہ کے رسول!)آپ یہ جبہ خرید لیں اور جمعہ کے دن اور (ملاقاتی)وفود کی آمد کے موقع پر زیب تن فرما لیا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’یہ تو صرف وہ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔‘‘ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ جبے آئے تو آپ نے ایک جبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو، ایک اسامہ بن زید کو اور ایک سیدنا علی رضی اللہ عنہم بھیجا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول! آپ نے یہ مجھے بھیج دیا ہے حالانکہ آپ نے ایسے جبے کے بارے میں جو فرمایا ہے میں وہ آپ سے سن چکا ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اسے بیچ دو یا اس کے ذریعے اپنی کوئی ضرورت پوری کرلو۔‘‘
تشریح : (۱)اس میں ملاقات کے وقت عمدہ لباس پہننے کے استحباب کے ساتھ ساتھ یہ مسئلہ بھی ثابت ہوا کہ خالص ریشم مردوں کے لیے حرام ہے، تاہم اسے بیچنا جائز ہے۔ (۲) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ جبہ اپنے ایک مشرک بھائی کو بھجوا دیا جو مکہ میں رہتا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ کافر براہ راست فروعات کے مکلف نہیں ہیں۔
تخریج : صحیح:أخرجه البخاري، کتاب الجمعة، باب یلبس أحسن ما یجد:۸۸۶، ۶۰۸۱۔ ومسلم:۲۰۶۸۔ والنسائي:۵۳۰۰۔ وأبي داود:۱۰۷۶۔ (۱)اس میں ملاقات کے وقت عمدہ لباس پہننے کے استحباب کے ساتھ ساتھ یہ مسئلہ بھی ثابت ہوا کہ خالص ریشم مردوں کے لیے حرام ہے، تاہم اسے بیچنا جائز ہے۔ (۲) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ جبہ اپنے ایک مشرک بھائی کو بھجوا دیا جو مکہ میں رہتا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ کافر براہ راست فروعات کے مکلف نہیں ہیں۔