الادب المفرد - حدیث 289

كِتَابُ بَابُ حُسْنِ الْخُلُقِ إِذَا فَقِهُوا حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((تَدْرُونَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّارَ؟)) قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " الْأَجْوَفَانِ: الْفَرْجُ وَالْفَمُ، وَأَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ الْجَنَّةَ؟ تَقْوَى اللَّهِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ "

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 289

کتاب دین کی سوجھ بوجھ رکھنے والے کے لیے حسن اخلاق حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تم جانتے ہو لوگوں کو کیا چیز زیادہ آگ میں لے جائے گی؟‘‘ لوگوں نے عرض کیا:اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ نے فرمایا:’’دو کھوکھلی چیزیں شرم گاہ اور منہ، اور جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ دخول جنت کا باعث ہوگی وہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اور حسن اخلاق ہے۔‘‘
تشریح : (۱)آپ نے سوالیہ انداز اس لیے اختیار کیا کہ لوگوں کو یہ بات راسخ ہو جائے اور وہ مکمل طور پر اس کی طرف متوجہ ہو جائیں۔ (۲) زبان کا معاملہ نہایت حساس ہے۔ لوگوں کی اکثریت جہنم میں اسی زبان کی کارستانیوں کی وجہ سے جائے گی۔ آپ نے زبان پر کنٹرول کو اخروی نجات کی بنیاد قرار دیا ہے۔ آپ نے زبان کو جب تمام امور کی اساس قرار دیا تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو تعجب ہوا اور بارگاہ نبوی میں عرض کیا: ((وَاِنَّا لَمُؤَاخَذُونَ بِمَا نَتَکَلَّمُ بِهِ؟)) ’’اور کیا کلام پر بھی ہمارا مؤاخذہ ہو جائے گا؟‘‘ آپ نے فرمایا: ((ثَکِلَتْكَ أمُّكَ یَا مُعَاذُ وَهَلْ یَکُبُّ النَّاسَ في النَّارِ عَلَی وُجُوهِهِمْ أوْ عَلَی مَنَاخِرِهِمْ اِلاَّ حَصَائِدُ ألْسِنَتِهِمْ))(جامع الترمذي، الایمان، حدیث:۲۶۱۶) ’’اے معاذ! تیری ماں تجھے گم پائے لوگوں کو جہنم میں اوندھے منہ ان کی زبانوں کی کارستانیاں ہی تو گرائیں گی۔ اسی طرح دوسرا بڑا سبب انسان کی شہوات ہیں جو دوزخ میں لے جائیں گی اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بدکاری اور اس کے عوامل سے دور رہنے کا حکم دیا ہے اور یہ اتنا شدید گناہ ہے کہ اگر کوئی شادی شدہ اس کا مرتکب ہو تو اسے رجم کرنے کا حکم ہے اور اگر توبہ نصوح نہ کی اور حد بھی نہ لگی تو آخرت میں جہنم کی سزا ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے کامیاب ہونے والے مومنوں کی یہ صفت بتائی ہے کہ وہ اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرتے ہیں۔ اور جو شخص قدرت رکھتے ہوئے محض اللہ تعالیٰ کے ڈر سے بدکاری ترک کر دے اللہ تعالیٰ نے اسے روز قیامت اپنے عرش کا سایہ عطا کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ (۳) دخول جنت کے لیے ضروری ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق ادا کرنے والا ہو۔ تقویٰ ہوگا تو انسان اللہ تعالیٰ کے حقوق کی پاسداری کرے گا اور اللہ تعالیٰ کے او امر و نواہی کو بجا لائے گا اور حسن خلق سے اشارہ ہے کہ وہ بندوں کے ساتھ حسن معاملہ کرنے والا اور ان کے حقوق ادا کرنے والا ہے۔ گویا یہ دونوں صفات پہلی جہنم والی دو صفات کے برعکس ہیں۔ زبان کی حفاظت نہیں ہوگی تو دوزخ اور اگر ہوگی تو وہ حسن اخلاق ہے جو دخول جنت کا باعث ہے۔ شرمگاہ کی حفاظت نہ کرنے والا تقوے سے عاری ہے اس لیے اس کا انجام دوزخ ہے اور اگر تقویٰ ہے تو پھر جنت آسان ہو جائے گی۔
تخریج : حسن:أخرجه ابن ماجة، کتاب الزهد، باب ذکر الذنوب:۴۲۴۶۔ الصحیحة:۹۷۷۔ (۱)آپ نے سوالیہ انداز اس لیے اختیار کیا کہ لوگوں کو یہ بات راسخ ہو جائے اور وہ مکمل طور پر اس کی طرف متوجہ ہو جائیں۔ (۲) زبان کا معاملہ نہایت حساس ہے۔ لوگوں کی اکثریت جہنم میں اسی زبان کی کارستانیوں کی وجہ سے جائے گی۔ آپ نے زبان پر کنٹرول کو اخروی نجات کی بنیاد قرار دیا ہے۔ آپ نے زبان کو جب تمام امور کی اساس قرار دیا تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو تعجب ہوا اور بارگاہ نبوی میں عرض کیا: ((وَاِنَّا لَمُؤَاخَذُونَ بِمَا نَتَکَلَّمُ بِهِ؟)) ’’اور کیا کلام پر بھی ہمارا مؤاخذہ ہو جائے گا؟‘‘ آپ نے فرمایا: ((ثَکِلَتْكَ أمُّكَ یَا مُعَاذُ وَهَلْ یَکُبُّ النَّاسَ في النَّارِ عَلَی وُجُوهِهِمْ أوْ عَلَی مَنَاخِرِهِمْ اِلاَّ حَصَائِدُ ألْسِنَتِهِمْ))(جامع الترمذي، الایمان، حدیث:۲۶۱۶) ’’اے معاذ! تیری ماں تجھے گم پائے لوگوں کو جہنم میں اوندھے منہ ان کی زبانوں کی کارستانیاں ہی تو گرائیں گی۔ اسی طرح دوسرا بڑا سبب انسان کی شہوات ہیں جو دوزخ میں لے جائیں گی اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بدکاری اور اس کے عوامل سے دور رہنے کا حکم دیا ہے اور یہ اتنا شدید گناہ ہے کہ اگر کوئی شادی شدہ اس کا مرتکب ہو تو اسے رجم کرنے کا حکم ہے اور اگر توبہ نصوح نہ کی اور حد بھی نہ لگی تو آخرت میں جہنم کی سزا ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے کامیاب ہونے والے مومنوں کی یہ صفت بتائی ہے کہ وہ اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرتے ہیں۔ اور جو شخص قدرت رکھتے ہوئے محض اللہ تعالیٰ کے ڈر سے بدکاری ترک کر دے اللہ تعالیٰ نے اسے روز قیامت اپنے عرش کا سایہ عطا کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ (۳) دخول جنت کے لیے ضروری ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق ادا کرنے والا ہو۔ تقویٰ ہوگا تو انسان اللہ تعالیٰ کے حقوق کی پاسداری کرے گا اور اللہ تعالیٰ کے او امر و نواہی کو بجا لائے گا اور حسن خلق سے اشارہ ہے کہ وہ بندوں کے ساتھ حسن معاملہ کرنے والا اور ان کے حقوق ادا کرنے والا ہے۔ گویا یہ دونوں صفات پہلی جہنم والی دو صفات کے برعکس ہیں۔ زبان کی حفاظت نہیں ہوگی تو دوزخ اور اگر ہوگی تو وہ حسن اخلاق ہے جو دخول جنت کا باعث ہے۔ شرمگاہ کی حفاظت نہ کرنے والا تقوے سے عاری ہے اس لیے اس کا انجام دوزخ ہے اور اگر تقویٰ ہے تو پھر جنت آسان ہو جائے گی۔