الادب المفرد - حدیث 265

كِتَابُ بَابُ الْمِزَاحِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ أَوْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ تُدَاعِبُنَا؟ قَالَ: ((إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا))

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 265

کتاب مذاق کرنے کا بیان حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا:اللہ کے رسول! آپ ہمارے ساتھ ہنسی مذاق کرتے ہیں! آپ نے فرمایا:’’میں (مذاق میں بھی)جو بات کرتا ہوں وہ حق ہوتی ہے۔‘‘
تشریح : (۱)ہنسی مذاق میں عموماً جھوٹ، غیبت، کسی کی حقارت، یا فحش بات بھی آجاتی ہے اس لیے صحابہ کرام کو اشکال پیدا ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا معاملہ ایسا نہیں ہے۔ میں مذاق میں بھی ایسی بات نہیں کرتا جو خلاف واقعہ ہو۔ بلکہ سچ کو ہی اس انداز سے پیش کرتا ہوں کہ اس میں دل لگی پیدا ہو جاتی ہے جیسا کہ آئندہ احادیث سے ظاہر ہوتا ہے۔ (۲) کسی مسلمان کو خوشی مہیا کرنے کے لیے اس سے مزاح کرنا جائز ہے۔ یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہے لیکن مزاح میں بھی جھوٹ سے ہر صورت اجتناب کرنا چاہیے، نیز یہ مذاق دنیاوی امور میں ہو، دینی امور میں مذاق کسی صورت جائز نہیں بلکہ بسا اوقات انسان دین سے بھی خارج ہو جاتا ہے۔ (۳) مذاق کے حوالے سے یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ تفریح کے نام پر گھنٹوں ڈرامے دیکھ کر وقت ضائع کرنا کسی صورت جائز نہیں، نیز جس طرح جھوٹ بولنا گناہ ہے اسی طرح سننا بھی جرم ہے۔
تخریج : صحیح:أخرجه الترمذی، البر والصلة، باب ماجاء في المزاح:۱۹۹۰۔ واحمد:۲؍ ۳۶۰۔ من حدیث ابن المبارك به الصحیحة:۱۷۲۶۔ (۱)ہنسی مذاق میں عموماً جھوٹ، غیبت، کسی کی حقارت، یا فحش بات بھی آجاتی ہے اس لیے صحابہ کرام کو اشکال پیدا ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا معاملہ ایسا نہیں ہے۔ میں مذاق میں بھی ایسی بات نہیں کرتا جو خلاف واقعہ ہو۔ بلکہ سچ کو ہی اس انداز سے پیش کرتا ہوں کہ اس میں دل لگی پیدا ہو جاتی ہے جیسا کہ آئندہ احادیث سے ظاہر ہوتا ہے۔ (۲) کسی مسلمان کو خوشی مہیا کرنے کے لیے اس سے مزاح کرنا جائز ہے۔ یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہے لیکن مزاح میں بھی جھوٹ سے ہر صورت اجتناب کرنا چاہیے، نیز یہ مذاق دنیاوی امور میں ہو، دینی امور میں مذاق کسی صورت جائز نہیں بلکہ بسا اوقات انسان دین سے بھی خارج ہو جاتا ہے۔ (۳) مذاق کے حوالے سے یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ تفریح کے نام پر گھنٹوں ڈرامے دیکھ کر وقت ضائع کرنا کسی صورت جائز نہیں، نیز جس طرح جھوٹ بولنا گناہ ہے اسی طرح سننا بھی جرم ہے۔