الادب المفرد - حدیث 261

كِتَابُ بَابُ الْأُلْفَةِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَاصِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ رُوحَ الْمُؤْمِنَيْنِ لَيَلْتَقِيَانِ فِي مَسِيرَةِ يَوْمٍ، وَمَا رَأَى أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ))

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 261

کتاب باہم الفت کے ساتھ رہنے کا بیان حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’بلاشبہ دو مومنوں کی روحیں ایک دن کی مسافت پر ایک دوسرے سے ملتی ہیں حالانکہ ان میں سے کسی ایک نے اپنے ساتھی کو دیکھا نہیں۔‘‘
تشریح : اس حدیث کی سند ضعیف ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ روحوں کا تعلق جسمانی جوڑ اور تعلق سے زیادہ ہوتا ہے۔
تخریج : ضعیف:أخرجه ابن وهب في الجامع:۱۸۰۔ وأحمد:۶۶۳۶۔ الضعیفة:۱۹۴۷۔ اس حدیث کی سند ضعیف ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ روحوں کا تعلق جسمانی جوڑ اور تعلق سے زیادہ ہوتا ہے۔