الادب المفرد - حدیث 243

كِتَابُ بَابُ الْعَفْوِ وَالصَّفْحِ عَنِ النَّاسِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ يَهُودِيَّةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَسْمُومَةٍ، فَأَكَلَ مِنْهَا، فَجِيءَ بِهَا، فَقِيلَ: أَلَا نَقْتُلُهَا؟ قَالَ: ((لَا)) ، قَالَ: فَمَا زِلْتُ أَعْرِفُهَا فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 243

کتاب لوگوں سے درگزر کرنے کا بیان حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت زہر آلود بھنی ہوئی بکری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائی۔ آپ نے اس میں سے کھا لیا۔ پھر اس عورت کو لایا گیا اور آپ سے عرض کیا گیا:کیا ہم اس کو قتل نہ کر دیں۔ آپ نے فرمایا:نہیں! حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلق میں مسلسل زہر کے اثرات دیکھتا رہا۔
تشریح : (۱)فتح خیبر کے موقع پر ایک یہودی عورت نے زہر آلود بکری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور ہدیہ دی۔ آپ نے اس سے تناول فرمایا۔ ابھی شروع ہی کیا تھا کہ آپ کو بذریعہ وحی بتایا گیا کہ یہ بکری زہر آلود ہے تو آپ نے کھانا ترک کر دیا اور صحابہ کرام کو بھی کھانا ترک کرنے کا حکم دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو طلب فرمایا:تو اس نے اقرار کرلیا اور کہا کہ میں نے یہ زہر اس لیے ملایا تھا کہ اگر آپ سچے نبی ہوں گے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا ورنہ ہماری جان چھوٹ جائے گی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس خاتون کو قتل کرنے کی اجازت چاہی تو آپ نے درگزر کرنے کا حکم دیا۔ بعد ازاں اس زہر کی وجہ سے بشر بن براء بن معرور انصاری رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو قصاص میں قتل کر دیا۔ (۲) اس سے معلوم ہوا کہ اہل کتاب کا ہدیہ قبول کیا جاسکتا ہے جبکہ وہ کسی حلال چیز کا ہو۔ (۳) جو حلال چیزیں کھاتا ہو اس سے چیز کی اصل کے متعلق سوال کیے بغیر بھی کھایا جاسکتا ہے، تاہم اگر اس کے برعکس شواہد ہوں تو اسے ترک کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح مسلمان دوکاندار، مثلاً قصاب وغیرہ سے بھی گوشت خریدا جاسکتا ہے اس سے جانور کے ذبح کی تفصیل پوچھنا ضروری نہیں۔ تاہم عصر حاضر میں دولت کی ہوس نے لوگوں میں حلال و حرام کی تمیز ختم کر دی ہے اس لیے گوشت وغیرہ خریدتے وقت چھان بین ضرور کر لینی چاہیے۔ (۴) اس سے معلوم ہوا کہ آپ عالم الغیب نہیں تھے اس لیے آپ نے اس گوشت کے چند لقمے لیے اور بشر بن براء رضی اللہ عنہ نے بھی کھایا اور پھر آپ کو بذریعہ وحی اطلاع دی گئی تو آپ نے کھانا ترک کر دیا۔ اگر آپ کو پہلے سے علم ہوتا تو آپ کبھی تناول نہ فرماتے۔ اگر یہ کہا جائے کہ آپ کو علم تھا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ نعوذ باللہ آپ نے بشر بن براء رضی اللہ عنہ کو جان بوجھ کر شہید کروایا حالانکہ ایسا نہیں ہے۔
تخریج : صحیح:أخرجه البخاري، کتاب الٰهیة وفضلها والتحریض علیها:۲۶۱۷۔ ومسلم:۲۱۹۰۔ وأبي داود:۴۵۰۸۔ الصحیحة:۶۴۴۱۔ (۱)فتح خیبر کے موقع پر ایک یہودی عورت نے زہر آلود بکری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور ہدیہ دی۔ آپ نے اس سے تناول فرمایا۔ ابھی شروع ہی کیا تھا کہ آپ کو بذریعہ وحی بتایا گیا کہ یہ بکری زہر آلود ہے تو آپ نے کھانا ترک کر دیا اور صحابہ کرام کو بھی کھانا ترک کرنے کا حکم دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو طلب فرمایا:تو اس نے اقرار کرلیا اور کہا کہ میں نے یہ زہر اس لیے ملایا تھا کہ اگر آپ سچے نبی ہوں گے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا ورنہ ہماری جان چھوٹ جائے گی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس خاتون کو قتل کرنے کی اجازت چاہی تو آپ نے درگزر کرنے کا حکم دیا۔ بعد ازاں اس زہر کی وجہ سے بشر بن براء بن معرور انصاری رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو قصاص میں قتل کر دیا۔ (۲) اس سے معلوم ہوا کہ اہل کتاب کا ہدیہ قبول کیا جاسکتا ہے جبکہ وہ کسی حلال چیز کا ہو۔ (۳) جو حلال چیزیں کھاتا ہو اس سے چیز کی اصل کے متعلق سوال کیے بغیر بھی کھایا جاسکتا ہے، تاہم اگر اس کے برعکس شواہد ہوں تو اسے ترک کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح مسلمان دوکاندار، مثلاً قصاب وغیرہ سے بھی گوشت خریدا جاسکتا ہے اس سے جانور کے ذبح کی تفصیل پوچھنا ضروری نہیں۔ تاہم عصر حاضر میں دولت کی ہوس نے لوگوں میں حلال و حرام کی تمیز ختم کر دی ہے اس لیے گوشت وغیرہ خریدتے وقت چھان بین ضرور کر لینی چاہیے۔ (۴) اس سے معلوم ہوا کہ آپ عالم الغیب نہیں تھے اس لیے آپ نے اس گوشت کے چند لقمے لیے اور بشر بن براء رضی اللہ عنہ نے بھی کھایا اور پھر آپ کو بذریعہ وحی اطلاع دی گئی تو آپ نے کھانا ترک کر دیا۔ اگر آپ کو پہلے سے علم ہوتا تو آپ کبھی تناول نہ فرماتے۔ اگر یہ کہا جائے کہ آپ کو علم تھا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ نعوذ باللہ آپ نے بشر بن براء رضی اللہ عنہ کو جان بوجھ کر شہید کروایا حالانکہ ایسا نہیں ہے۔