الادب المفرد - حدیث 217

كِتَابُ بَابُ مَنْ لَمْ يَجِدِ الْمُكَافَأَةَ فَلْيَدْعُ لَهُ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ الْمُهَاجِرِينَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَهَبَ الْأَنْصَارُ بِالْأَجْرِ كُلِّهِ؟ قَالَ: ((لَا، مَا دَعَوْتُمُ اللَّهَ لَهُمْ، وَأَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِمْ بِهِ))

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 217

کتاب جس کے پاس بدلہ دینے کے لیے کچھ نہ ہو وہ محسن کے لیے دعا کر دے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مہاجرین نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول! سارا اجر تو انصار لے گئے۔ آپ نے فرمایا:’’ایسا نہیں ہے جب تک تم نے ان کے لیے دعائیں کرو اور انہیں تعریفي کلمات سے یاد کرو۔‘‘
تشریح : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس طرح احسان کرنے والے اور ہدیہ وغیرہ دینے والے کو ثواب ملتا ہے، اسی طرح اس کے بدلے میں دعا کرنے والے اور محسن کی تعریف کرنے والے کو بھی اس دعا اور تعریف کا ثواب ملتا ہے لیکن یہ اس صورت میں ہے جب کوئی شخص واقعی احسان کا بدلہ دینے کی پوزیشن میں نہ ہو، اگر استطاعت ہونے کے باوجود بدلہ نہ دے اور جزاک اللہ خیراً کہہ دے تو وہ شاید اس ثواب کا مستحق نہ ہو۔
تخریج : صحیح:أخرجه أبي داود، کتاب الأدب، باب في شکر المعروف:۴۸۱۲۔ والترمذي:۲۴۸۷۔ صحیح الترغیب:۹۷۷۔ وصححه الحاکم علی شرط مسلم:۲؍ ۶۳۔ ووافقه الذهبي۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس طرح احسان کرنے والے اور ہدیہ وغیرہ دینے والے کو ثواب ملتا ہے، اسی طرح اس کے بدلے میں دعا کرنے والے اور محسن کی تعریف کرنے والے کو بھی اس دعا اور تعریف کا ثواب ملتا ہے لیکن یہ اس صورت میں ہے جب کوئی شخص واقعی احسان کا بدلہ دینے کی پوزیشن میں نہ ہو، اگر استطاعت ہونے کے باوجود بدلہ نہ دے اور جزاک اللہ خیراً کہہ دے تو وہ شاید اس ثواب کا مستحق نہ ہو۔