الادب المفرد - حدیث 215

كِتَابُ بَابُ مَنْ صُنِعَ إِلَيْهِ مَعْرُوفٌ فَلْيُكَافِئْهُ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ شُرَحْبِيلَ مَوْلَى الْأَنْصَارِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ صُنِعَ إِلَيْهِ مَعْرُوفٌ فَلْيُجْزِئْهُ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ مَا يُجْزِئُهُ فَلْيُثْنِ عَلَيْهِ، فَإِنَّهُ إِذَا أَثْنَى فَقَدْ شَكَرَهُ، وَإِنْ كَتَمَهُ فَقَدْ كَفَرَهُ، وَمَنْ تَحَلَّى بِمَا لَمْ يُعْطَ، فَكَأَنَّمَا لَبِسَ ثَوْبَيْ زُورٍ))

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 215

کتاب جس سے نیکی کی جائے وہ اس کا پورا پورا بدلہ دے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جس کے ساتھ کوئی احسان کیا جائے اسے چاہیے کہ اس کا بدلہ دے۔ اگر بدلہ دینے کے لیے اس کے پاس کوئی چیز نہ ہو تو احسان کرنے والے کی تعریف میں اچھے کلمات ہی کہہ دے، چنانچہ جس نے اچھے کلمات کہہ دیے اس نے اس کا شکریہ ادا کر دیا اور اگر اس نے اس احسان کو چھپایا تو اس نے اس کی ناشکری کی۔ اور جس نے اپنے لیے کوئی ایسی صفت ظاہری کی جو اس میں نہ ہو تو اس نے جھوٹ کے دو کپڑے پہن لیے۔‘‘
تشریح : (۱)اس سے معلوم ہوا کہ نیکی اور احسان کرنے والے کا یہ حق ہے کہ اسے اس کا صلہ دیا جائے۔ بے شک وہ یہ نیکی اللہ کی خوشنودی کی خاطر ہی کرے۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جو لوگوں کا احسان شناس نہیں وہ اللہ کا شکر گزار بھی نہیں ہوسکتا، نیز ہدیہ اور تحفہ اس لیے دینا بھی جائز ہے کہ اس کا بدلہ ملے اگرچہ بہتر یہی ہے کہ اللہ کی رضا کی خاطر دیا جائے۔ (۲) اس سے معلوم ہوا کہ شادی بیاہ کے موقع پر تحائف کا تبادلہ جائز ہے اور ایک دوسرے سے مالی تعاون بھی جائز ہے لیکن اس میں یہ بات نہیں ہونی چاہیے کہ جتنا میں نے دیا ہے، اتنا ہی لینا ہے یا دوگنا لینا ہے اور نہ ملنے پر جھگڑا کرنا۔ جہاں اس چیز کا اندیشہ ہو وہاں تحفہ رد بھی کیا جاسکتا ہے۔ (۳) مالی طور پر لوگوں کا ایک دوسرے سے تفاوت کارخانۂ قدرت کا کرشمہ ہے اور نظام دنیا کی بقا کا راز ہے۔ اس لیے ہر شخص بسا اوقات احسان کا بدلہ نہیں چکا سکتا یا تحائف کا بدل نہیں دے سکتا۔ شریعت نے اس کا حل یہ بتایا کہ وہ احسان کرنے والے کو اچھے لفظوں میں یاد رکھے اور اس کے لیے برکت کی دعا کرے اور زبان سے اس کا شکریہ ادا کرے۔ نیز لوگوں سے بھی اس کا اظہار کرے۔ (۴) اگر احسان کرنے والا شخص ایسا ہو جس کے ریا میں مبتلا ہونے کا خدشہ نہ ہو تو اس کے منہ پر بھی اس کی تعریف کی جاسکتی ہے، بصورت دیگر اس کی عدم موجودگی میں اچھی تعریف کرنی چاہیے۔ اور زبانی شکریے کا بہترین انداز یہ ہے کہ انگریزی کے لفظ Than رحمہ اللہ s کے بجائے جزاک اللہ خیراً کہہ دے اس میں اجر و ثواب بھی ہے اور محسن کے لیے دعا بھی۔ (۵) اللہ تعالیٰ انسان کو جس حال میں رکھے اسی حالت پر راضی رہنا چاہیے۔ ترقی کے لیے محنت اور کوشش جائز ہے، تاہم فقیر کا یہ انداز اختیار کرنا کہ وہ بڑا رئیس زادہ ہے یا کسی مالدار کا جعلی زہد اختیار کرنا ہر دو صورتیں نہ صرف ممنوع ہیں بلکہ شریعت نے ایسے شخص کو سر تا سر جھوٹا قرار دیا ہے۔ اگر کوئی فقیر شخص اللہ کا شکر گزار رہتا ہے اور اپنی فقیری کا کسی کے سامنے اظہار نہیں کرتا یا مالدار زہد کی زندگی اختیار کرتا ہے اور مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ جو خوبی انسان میں نہ ہو یا جو کام انسان نے نہ کیا اس کا کریڈٹ لینے کے لیے یہ ظاہر کرنا کہ یہ خوبی اس میں ہے یا کام اس نے کیا ہے شرعاً ممنوع اور حرام ہے۔
تخریج : صحیح:أخرجه أبي داود، کتاب الأدب، باب في شکر المعروف:۴۸۱۳۔ والترمذي:۲۰۳۴۔ صحیح الترغیب:۹۶۸۔ والصحیحة:۶۱۷۔ (۱)اس سے معلوم ہوا کہ نیکی اور احسان کرنے والے کا یہ حق ہے کہ اسے اس کا صلہ دیا جائے۔ بے شک وہ یہ نیکی اللہ کی خوشنودی کی خاطر ہی کرے۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جو لوگوں کا احسان شناس نہیں وہ اللہ کا شکر گزار بھی نہیں ہوسکتا، نیز ہدیہ اور تحفہ اس لیے دینا بھی جائز ہے کہ اس کا بدلہ ملے اگرچہ بہتر یہی ہے کہ اللہ کی رضا کی خاطر دیا جائے۔ (۲) اس سے معلوم ہوا کہ شادی بیاہ کے موقع پر تحائف کا تبادلہ جائز ہے اور ایک دوسرے سے مالی تعاون بھی جائز ہے لیکن اس میں یہ بات نہیں ہونی چاہیے کہ جتنا میں نے دیا ہے، اتنا ہی لینا ہے یا دوگنا لینا ہے اور نہ ملنے پر جھگڑا کرنا۔ جہاں اس چیز کا اندیشہ ہو وہاں تحفہ رد بھی کیا جاسکتا ہے۔ (۳) مالی طور پر لوگوں کا ایک دوسرے سے تفاوت کارخانۂ قدرت کا کرشمہ ہے اور نظام دنیا کی بقا کا راز ہے۔ اس لیے ہر شخص بسا اوقات احسان کا بدلہ نہیں چکا سکتا یا تحائف کا بدل نہیں دے سکتا۔ شریعت نے اس کا حل یہ بتایا کہ وہ احسان کرنے والے کو اچھے لفظوں میں یاد رکھے اور اس کے لیے برکت کی دعا کرے اور زبان سے اس کا شکریہ ادا کرے۔ نیز لوگوں سے بھی اس کا اظہار کرے۔ (۴) اگر احسان کرنے والا شخص ایسا ہو جس کے ریا میں مبتلا ہونے کا خدشہ نہ ہو تو اس کے منہ پر بھی اس کی تعریف کی جاسکتی ہے، بصورت دیگر اس کی عدم موجودگی میں اچھی تعریف کرنی چاہیے۔ اور زبانی شکریے کا بہترین انداز یہ ہے کہ انگریزی کے لفظ Than رحمہ اللہ s کے بجائے جزاک اللہ خیراً کہہ دے اس میں اجر و ثواب بھی ہے اور محسن کے لیے دعا بھی۔ (۵) اللہ تعالیٰ انسان کو جس حال میں رکھے اسی حالت پر راضی رہنا چاہیے۔ ترقی کے لیے محنت اور کوشش جائز ہے، تاہم فقیر کا یہ انداز اختیار کرنا کہ وہ بڑا رئیس زادہ ہے یا کسی مالدار کا جعلی زہد اختیار کرنا ہر دو صورتیں نہ صرف ممنوع ہیں بلکہ شریعت نے ایسے شخص کو سر تا سر جھوٹا قرار دیا ہے۔ اگر کوئی فقیر شخص اللہ کا شکر گزار رہتا ہے اور اپنی فقیری کا کسی کے سامنے اظہار نہیں کرتا یا مالدار زہد کی زندگی اختیار کرتا ہے اور مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ جو خوبی انسان میں نہ ہو یا جو کام انسان نے نہ کیا اس کا کریڈٹ لینے کے لیے یہ ظاہر کرنا کہ یہ خوبی اس میں ہے یا کام اس نے کیا ہے شرعاً ممنوع اور حرام ہے۔