الادب المفرد - حدیث 201

كِتَابُ بَابُ هَلْ يَجْلِسُ خَادِمُهُ مَعَهُ إِذَا أَكَلَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو يُونُسَ الْبَصْرِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو مَحْذُورَةَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، إِذْ جَاءَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ بِجَفْنَةٍ يَحْمِلُهَا نَفَرٌ فِي عَبَاءَةٍ، فَوَضَعُوهَا بَيْنَ يَدَيْ عُمَرَ، فَدَعَا عُمَرُ نَاسًا مَسَاكِينَ وَأَرِقَّاءَ مِنْ أَرِقَّاءِ النَّاسِ حَوْلَهُ، فَأَكَلُوا مَعَهُ، ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ: " فَعَلَ اللَّهُ بِقَوْمٍ - أَوْ قَالَ: لَحَا اللَّهُ قَوْمًا - يَرْغَبُونَ عَنْ أَرِقَّائِهِمْ أَنْ يَأْكُلُوا مَعَهُمْ "، فَقَالَ صَفْوَانُ: أَمَا وَاللَّهِ، مَا نَرْغَبُ عَنْهُمْ، وَلَكِنَّا نَسْتَأْثِرُ عَلَيْهِمْ، لَا نَجْدُ وَاللَّهِ مِنَ الطَّعَامِ الطِّيبِ مَا نَأْكُلُ وَنُطْعِمُهُمْ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 201

کتاب کیا کھانا کھاتے وقت غلام کو ساتھ بٹھانا ضروری ہے؟ حضرت ابو محذورۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا کہ صفوان بن امیہ ایک بہت بڑا ٹب لے کر آئے جسے چند لوگ ایک چادر میں اٹھائے ہوئے تھے، چنانچہ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے رکھ دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مسکین لوگوں اور دیگر لوگوں کے جو غلام وہاں موجود تھے انہیں بلایا تو انہوں نے ساتھ کھایا۔ اس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا برا کرے۔ یا فرمایا:ان پر لعنت کرے جو اپنے غلاموں کے ساتھ کھانے سے گریز کرتے ہیں۔ حضرت صفوان نے کہا:اللہ کی قسم! ہم ان سے بے توجہی نہیں کرتے لیکن ہم اپنی ذات کو ان پر ترجیح دیتے ہیں۔ اللہ کی قسم ہمارے پاس اتنا عمدہ اور اچھا کھانا نہیں ہوتا جو ہم خود بھی کھائیں اور انہیں بھی کھلائیں۔
تشریح : گزشتہ ابواب میں مذکور روایات سے بظاہر یہ معلوم ہوتا تھا کہ غلام اور خادم کو ساتھ بٹھا کر کھلانا فرض اور واجب کا درجہ رکھتا ہے۔ اور اس مسئلے میں فقہاء کے درمیان اختلاف بھی ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے فقہاء کے اسی اختلاف کی طرف اس باب کے عنوان میں اشارہ کیا ہے اور اپنا رجحان یہ ظاہر کیا ہے کہ اگر کوئی رکاوٹ مانع ہو تو غلام کو ساتھ نہ بٹھانا بھی جائز ہے، مثلاً کھانا تھوڑا ہو یا خادم خود ادب و احترام کی وجہ سے مالک کے ساتھ نہ بیٹھے تو اس صورت میں کوئی گناہ نہیں، تاہم ایسی صورت میں اسے کچھ نہ کچھ کھانا دینا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص خادم کو از راہ تکبر ساتھ نہ بٹھائے تو وہ ضرور گناہ گار ہوگا جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فرمان سے ظاہر ہوتا ہے۔
تخریج : صحیح:أخرجه المروزي في البر والصلة:۳۵۳۔ گزشتہ ابواب میں مذکور روایات سے بظاہر یہ معلوم ہوتا تھا کہ غلام اور خادم کو ساتھ بٹھا کر کھلانا فرض اور واجب کا درجہ رکھتا ہے۔ اور اس مسئلے میں فقہاء کے درمیان اختلاف بھی ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے فقہاء کے اسی اختلاف کی طرف اس باب کے عنوان میں اشارہ کیا ہے اور اپنا رجحان یہ ظاہر کیا ہے کہ اگر کوئی رکاوٹ مانع ہو تو غلام کو ساتھ نہ بٹھانا بھی جائز ہے، مثلاً کھانا تھوڑا ہو یا خادم خود ادب و احترام کی وجہ سے مالک کے ساتھ نہ بیٹھے تو اس صورت میں کوئی گناہ نہیں، تاہم ایسی صورت میں اسے کچھ نہ کچھ کھانا دینا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص خادم کو از راہ تکبر ساتھ نہ بٹھائے تو وہ ضرور گناہ گار ہوگا جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فرمان سے ظاہر ہوتا ہے۔