الادب المفرد - حدیث 199

كِتَابُ بَابُ يُطْعِمُ الْعَبْدَ مِمَّا يَأْكُلُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ مُبَشِّرٍ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوصِي بِالْمَمْلُوكِينَ خَيْرًا وَيَقُولُ: ((أَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ، وَأَلْبِسُوهُمْ مِنْ لَبُوسِكُمْ، وَلَا تُعَذِّبُوا خَلْقَ اللَّهِ))

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 199

کتاب غلام کو وہی کھلائے جو خود کھائے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غلاموں سے بھلائی اور حسن سلوک کی وصیت کرتے اور فرماتے:’’انہیں بھی وہی کھلاؤ جو خود کھاؤ اور انہیں بھی ویسا لباس پہناؤ جیسا خود پہنو اور اللہ کی مخلوق کو عذاب مت دو۔‘‘
تشریح : غلام اور خادم خدمت کے لیے ہوتے ہیں ان سے خدمت لی جاسکتی ہے، شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں، تاہم اس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ ان کے آرام کا بھی خیال رکھا جائے اور ان پر ان کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہ ڈالا جائے۔
تخریج : صحیح:تقدم برقم:۱۸۸۔ غلام اور خادم خدمت کے لیے ہوتے ہیں ان سے خدمت لی جاسکتی ہے، شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں، تاہم اس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ ان کے آرام کا بھی خیال رکھا جائے اور ان پر ان کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہ ڈالا جائے۔