الادب المفرد - حدیث 194

كِتَابُ بَابُ لَا يُكَلَّفُ الْعَبْدُ مِنَ الْعَمَلِ مَا لَا يُطِيقُ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ: قَالَ مَعْرُورٌ: مَرَرْنَا بِأَبِي ذَرٍّ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ، وَعَلَى غُلَامِهِ حُلَّةٌ، فَقُلْنَا: لَوْ أَخَذْتَ هَذَا وَأَعْطَيْتَ هَذَا غَيْرَهُ، كَانَتْ حُلَّةٌ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((إِخْوَانُكُمْ جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدِهِ، فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ، وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ، وَلَا يُكَلِّفْهُ مَا يَغْلِبُهُ، فَإِنْ كَلَّفَهُ مَا يَغْلِبُهُ فَلْيُعِنْهُ عَلَيْهِ))

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 194

کتاب غلام کو اس کی استطاعت سے زیادہ تکلیف نہ دی جائے حضرت معرور سے روایت ہے کہ ہم سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو (دیکھا کہ)ان پر ایک معمولی کپڑا ہے اور غلام نے ایک جوڑا پہن رکھا ہے۔ ہم نے عرض کیا:اگر آپ یہ اس غلام سے لے لیتے اور اسے کوئی اور کپڑا دے دیتے تو آپ کا سوٹ بن جاتا۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’یہ تمہارے بھائی ہیں جنہیں اللہ نے تمہارے ماتحت کر دیا ہے، لہٰذا جس کے ماتحت اس کا بھائی ہو اسے چاہیے کہ جو خود کھائے اسے بھی وہی کھلائے اور اسے بھی وہی پہنائے جو خود پہنے۔ اور اس پر اتنی مشقت نہ ڈالے کہ وہ دب جائے اور اگر اس پر اس کی طاقت سے زیادہ کوئی کام ڈالا تو اس پر اس کی مدد کرے۔‘‘
تشریح : ان احادیث سے یہ درس ملتا ہے کہ مزدور، ملازمین اور غلام وغیرہ بھی انسان ہیں اور تمام بشری کمزوریاں ان میں پائی جاتی ہیں اس لیے ان سے حسن سلوک کا معاملہ کرتے ہوئے ان پر اتنا بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے جس کے متحمل نہ ہوں۔ اگر کوئی ایسی ہنگامی صورت ہو کہ کام زیادہ ہو تو خود ان کا ہاتھ بٹانا چاہیے تاکہ انہیں ہمدردی کا احساس ہو اور وہ اپنے آپ کو حقیر خیال نہ کریں۔ اس طرح ان کے دل میں بھی خیر خواہی کے جذبات پیدا ہوں گے۔
تخریج : صحیح:تقدم برقم:۱۸۹۔ ان احادیث سے یہ درس ملتا ہے کہ مزدور، ملازمین اور غلام وغیرہ بھی انسان ہیں اور تمام بشری کمزوریاں ان میں پائی جاتی ہیں اس لیے ان سے حسن سلوک کا معاملہ کرتے ہوئے ان پر اتنا بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے جس کے متحمل نہ ہوں۔ اگر کوئی ایسی ہنگامی صورت ہو کہ کام زیادہ ہو تو خود ان کا ہاتھ بٹانا چاہیے تاکہ انہیں ہمدردی کا احساس ہو اور وہ اپنے آپ کو حقیر خیال نہ کریں۔ اس طرح ان کے دل میں بھی خیر خواہی کے جذبات پیدا ہوں گے۔