الادب المفرد - حدیث 183

كِتَابُ بَابُ قِصَاصِ الْعَبْدِ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقَ إِلَى أَهْلِهَا، حَتَّى يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَمَّاءِ مِنَ الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ))

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 183

کتاب غلاموں کو بدلہ دینا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اہل حقوق کے حقوق ضرور ادا کیے جائیں گے حتی کہ بغیر سینگوں والی بکری کا سینگوں والی بکری سے قصاص لیا جائے گا۔‘‘
تشریح : (۱)آقا اگر اپنے غلام کو مارے تو دنیا میں اس پر حد جاری نہیں ہوگی اور نہ اسے سزا ہی دی جائے گی، تاہم زیادتی کرنے والے کو اس کا خمیازہ قیامت کے روز بھگتنا پڑے گا کیونکہ اس دن ہر انسان کو اچھا یا برا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور تمام حقوق والوں کو ان کے پورے حقوق ملیں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:اللہ کے رسول! میرے غلام ہیں۔ وہ مجھ سے جھوٹ بولتے ہیں، خیانت کرتے ہیں اور نافرمانی کرتے ہیں تو میں انہیں برا بھلا کہتا ہوں اور مارتا بھی ہوں۔ میرا معاملہ کیسا ہے؟ آپ نے فرمایا:’’ان کی خیانت اور جھوٹ وغیرہ کا حساب لگایا جائے گا اور تیری سزا کا بھی۔ اگر معاملہ برابر رہا تو ٹھیک، اگر تیری سزا زیادہ ہوئی تو تجھ سے قصاص لیا جائے گا۔‘‘ وہ شخص علیحدہ ہوکر رونے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’کیا تم نے اللہ کی کتاب نہیں پڑھی:﴿وَنَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا﴾ اس نے عرض کی:اللہ کے رسول! پھر تو یہی صورت ہے کہ میں انہیں آزاد کردوں، میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ یہ آزاد ہیں۔ (صحیح سنن الترمذي، حدیث:۲۵۳۱) (۲) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جانوروں کو بھی روز حشر انسانوں کی طرح زندہ کیا جائے گا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مکلف ہیں۔ ان کا یہ قصاص صرف اسی سزا تک محدود ہوگا اور اس کے بعد انہیں ختم کر دیا جائے۔ بکری کے ذکر کا مقصد یہ ہے کہ بغیر سینگوں والی بکری کمزور ہوتی ہے اور عموماً یہ عادت ہے کہ کمزوروں پر ظلم کیا جاتا ہے۔ تو یہ بتانا مقصود ہے کہ کمزور انسان تو کجا، کمزور جانوروں کو بھی ان کا حق ملے گا۔
تخریج : صحیح:أخرجه مسلم، کتاب البر والصلة:۲۵۸۲۔ والترمذي:۲۴۲۰۔ (۱)آقا اگر اپنے غلام کو مارے تو دنیا میں اس پر حد جاری نہیں ہوگی اور نہ اسے سزا ہی دی جائے گی، تاہم زیادتی کرنے والے کو اس کا خمیازہ قیامت کے روز بھگتنا پڑے گا کیونکہ اس دن ہر انسان کو اچھا یا برا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور تمام حقوق والوں کو ان کے پورے حقوق ملیں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:اللہ کے رسول! میرے غلام ہیں۔ وہ مجھ سے جھوٹ بولتے ہیں، خیانت کرتے ہیں اور نافرمانی کرتے ہیں تو میں انہیں برا بھلا کہتا ہوں اور مارتا بھی ہوں۔ میرا معاملہ کیسا ہے؟ آپ نے فرمایا:’’ان کی خیانت اور جھوٹ وغیرہ کا حساب لگایا جائے گا اور تیری سزا کا بھی۔ اگر معاملہ برابر رہا تو ٹھیک، اگر تیری سزا زیادہ ہوئی تو تجھ سے قصاص لیا جائے گا۔‘‘ وہ شخص علیحدہ ہوکر رونے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’کیا تم نے اللہ کی کتاب نہیں پڑھی:﴿وَنَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا﴾ اس نے عرض کی:اللہ کے رسول! پھر تو یہی صورت ہے کہ میں انہیں آزاد کردوں، میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ یہ آزاد ہیں۔ (صحیح سنن الترمذي، حدیث:۲۵۳۱) (۲) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جانوروں کو بھی روز حشر انسانوں کی طرح زندہ کیا جائے گا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مکلف ہیں۔ ان کا یہ قصاص صرف اسی سزا تک محدود ہوگا اور اس کے بعد انہیں ختم کر دیا جائے۔ بکری کے ذکر کا مقصد یہ ہے کہ بغیر سینگوں والی بکری کمزور ہوتی ہے اور عموماً یہ عادت ہے کہ کمزوروں پر ظلم کیا جاتا ہے۔ تو یہ بتانا مقصود ہے کہ کمزور انسان تو کجا، کمزور جانوروں کو بھی ان کا حق ملے گا۔