الادب المفرد - حدیث 180

كِتَابُ بَابُ مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ فَلْيُعْتِقْهُ مِنْ غَيْرِ إِيجَابٍ حَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا فِرَاسٌ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ، فَدَعَا بِغُلَامٍ لَهُ كَانَ ضَرَبَهُ فَكَشَفَ عَنْ ظَهْرِهِ فَقَالَ: أَيُوجِعُكَ؟ قَالَ: لَا. فَأَعْتَقَهُ، ثُمَّ رَفَعَ عُودًا مِنَ الْأَرْضِ فَقَالَ: مَالِي فِيهِ مِنَ الْأَجْرِ مَا يَزِنُ هَذَا الْعُودَ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، لِمَ تَقُولُ هَذَا؟ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ - أَوْ قَالَ -: ((مَنْ ضَرَبَ مَمْلُوكَهُ حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ، أَوْ لَطَمَ وَجْهَهُ، فَكَفَّارَتُهُ أَنْ يُعْتِقَهُ))

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 180

کتاب جس نے غلام کو تھپڑ مارا بہتر ہے کہ وہ اسے آزاد کر دے زاذان ابوعمر سے روایت ہے کہ ہم ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھے تو انہوں نے اپنے ایک غلام کو بلایا جسے انہوں نے مارا تھا۔ اس کی کمر سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا:کیا تجھے درد ہوتی ہے! اس نے کہا:نہیں، تو آپ نے اسے آزاد کر دیا۔ پھر ایک لکڑی زمین سے پکڑی اور فرمایا:اس میں میرے لیے اس لکڑی کے وزن کے برابر بھی ثواب نہیں۔ میں نے کہا:ابو عبدالرحمن! تم ایسا کیوں کہتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:’’جس نے اپنے غلام کو بغیر قصور کے مارا یا اسے طمانچہ رسید کیا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کرے۔‘‘
تشریح : ان احادیث میں درج ذیل باتوں کی تاکید کی گئی ہے۔ ۱۔ غلام اور خادم بھی انسان ہیں اور ان کی عزت نفس کا لحاظ رکھنا چاہیے۔ بلاوجہ انہیں بے عزت کرنا اور مارنا ناجائز ہے، تاہم ادب سکھانے کے لیے ہلکی پھلکی مار جائز ہے۔ ۲۔ بوقت ضرورت جو مار جائز ہے اس میں اس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ چہرے پر نہ مارا جائے۔ ۳۔ اگر کسی شخص نے اپنے غلام اور خادم کو بلاوجہ مارا یا چہرے پر مارا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کر دے، نیز ابن عمر رضی اللہ عنہ کے قول ’’مجھے اس لکڑی کے برابر بھی ثواب نہیں ملا‘‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ کفارے کی صورت میں آزاد کیے گئے غلام کا اجر و ثواب نہیں ملتا۔ وہ صرف گناہ کا کفارہ ہوتا ہے۔
تخریج : صحیح:تقدم برقم:۱۷۷۔ ان احادیث میں درج ذیل باتوں کی تاکید کی گئی ہے۔ ۱۔ غلام اور خادم بھی انسان ہیں اور ان کی عزت نفس کا لحاظ رکھنا چاہیے۔ بلاوجہ انہیں بے عزت کرنا اور مارنا ناجائز ہے، تاہم ادب سکھانے کے لیے ہلکی پھلکی مار جائز ہے۔ ۲۔ بوقت ضرورت جو مار جائز ہے اس میں اس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ چہرے پر نہ مارا جائے۔ ۳۔ اگر کسی شخص نے اپنے غلام اور خادم کو بلاوجہ مارا یا چہرے پر مارا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کر دے، نیز ابن عمر رضی اللہ عنہ کے قول ’’مجھے اس لکڑی کے برابر بھی ثواب نہیں ملا‘‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ کفارے کی صورت میں آزاد کیے گئے غلام کا اجر و ثواب نہیں ملتا۔ وہ صرف گناہ کا کفارہ ہوتا ہے۔