الادب المفرد - حدیث 173

كِتَابُ بَابُ لَا تَقُلْ: قَبَّحَ اللَّهُ وَجْهَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَا تَقُولَنَّ: قَبَّحَ اللَّهُ وَجْهَكَ وَوَجْهَ مَنْ أَشْبَهَ وَجْهَكَ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صُورَتِهِ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 173

کتاب ’’اللہ اس کا چہرہ بگاڑ دے‘‘ کہنے کی ممانعت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ تم ہرگز ایسا نہ کہو:اللہ تیری شکل و صورت بگاڑ دے اور اس کا چہرہ بھی بدصورت کر دے جس کی شکل تجھ سے ملتی جلتی ہے کیونکہ اللہ عزوجل نے آدم علیہ السلام کو ان کی خاص صورت پر پیدا فرمایا ہے۔
تشریح : (۱)اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنے ہاتھ سے بنایا۔ ان کو عزت و توقیر دی حتی کہ فرشتوں سے سجدہ کروایا۔ انبیاء و رسل کا سلسلہ ان کی نسل میں جاری فرمایا:اسی طرح تخلیق کے اعتبار سے بھی آدم علیہ السلام کو کامل ترین اور احسن تقویم بنایا۔ جو شکل و صورت اسے عطا کی اس سے کامل صورت ممکن نہیں کہ کوئی اس سے خوبصورت انسان بناسکے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ في اَحْسَن تَقْوِیْم﴾ ’’ہم نے انسان کو خوبصورت ترین شکل و صورت میں پیدا فرمایا۔‘‘ اس لیے اس صورت کے بگڑنے کی بد دعا نہایت معیوب ہے۔ (۲) ’’علی صورته‘‘ کا مطلب کیا ہے؟ پہلے معنی تو وہی ہیں جو ہم نے حدیث کا ترجمہ کرتے وقت کیے ہیں اور یہی معنی راجح ہیں۔ اس صورت میں ’’صورتہ‘‘ میں ضمیر کا مرجع آدم علیہ السلام کی ذات ہے۔ اس پر اعتراض وارد ہوتا ہے کہ ’’آدم کو اس کی صورت میں پیدا کیا‘‘ بے معنی سی بات ہے اور تحصیل حاصل ہے جس کی چنداں ضرورت نہیں۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا ہے:اللہ تعالیٰ نے تمام حیوانات جن کے جسم بڑھتے ہیں، ان کی تخلیق کا سلسلہ تناسل کے ذریعے سے بنایا ہے اور وہ تخلیق کے مراحل، نطفہ، علقہ، مضعہ وغیرہ سے گزر کر پیدا ہوتے ہیں، آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ان تمام عوارض سے پاک رکھا اور خصوصی طور پر اہتمام کے ساتھ ان کی تخلیق فرمائی۔ اس کی تائید صحیحین کی ایک روایت سے بھی ہوتی ہے۔ ((خلق اللّٰه آدم علی صورته، طوله سِتُّون ذراعًا....)) ’’اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو ان کی خصوصی صورت میں پیدا فرمایا اس طرح کہ ان کا قد ساٹھ ہاتھ تھا....۔‘‘ (الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان:۸؍۱۲،۱۳) دوسرے معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ’’اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنی صورت میں پیدا کیا ہے۔‘‘ یہ معنی کئی لحاظ سے مرجوح ہیں: ۱۔ اس طرح تشبیہ لازم آتی ہے جو کہ کفر ہے اور ارشاد باری تعالیٰ ہے:لَیْسَ کَمِثْلِهٖ شَیْئٌ اس کی کوئی مثال نہیں۔ ۲۔ علی صورتہ میں ضمیر کا مرجع اصولی طور پر قریب ہونا چاہیے اور وہ لفظ آدم ہے نہ کہ لفظ اللہ۔ ۳۔ جس روایت میں ’’علی صورۃ الرحمٰن‘‘ کے الفاظ ہیں، وہ منکر ہے جیسا کہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے سلسلہ الاحادیث الضعیفہ رقم:۱۱۷۶ میں اس پر تفصیلی کلام کیا ہے۔ (۳) دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس انداز سے گالی دینے والا سیدنا آدم علیہ السلام کو بھی گالی دیتا ہے کیونکہ ہر انسان کا چہرہ بہرحال آدم علیہ السلام سے ملتا جلتا ہے۔
تخریج : حسن:أخرجه أحمد:۹۶۰۴۔ والحمیدي:۱۱۵۳۔ والسنة لابن أبي عاصم:۱؍ ۲۲۷۔ الصحیحة:۸۱۲۔ (۱)اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنے ہاتھ سے بنایا۔ ان کو عزت و توقیر دی حتی کہ فرشتوں سے سجدہ کروایا۔ انبیاء و رسل کا سلسلہ ان کی نسل میں جاری فرمایا:اسی طرح تخلیق کے اعتبار سے بھی آدم علیہ السلام کو کامل ترین اور احسن تقویم بنایا۔ جو شکل و صورت اسے عطا کی اس سے کامل صورت ممکن نہیں کہ کوئی اس سے خوبصورت انسان بناسکے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ في اَحْسَن تَقْوِیْم﴾ ’’ہم نے انسان کو خوبصورت ترین شکل و صورت میں پیدا فرمایا۔‘‘ اس لیے اس صورت کے بگڑنے کی بد دعا نہایت معیوب ہے۔ (۲) ’’علی صورته‘‘ کا مطلب کیا ہے؟ پہلے معنی تو وہی ہیں جو ہم نے حدیث کا ترجمہ کرتے وقت کیے ہیں اور یہی معنی راجح ہیں۔ اس صورت میں ’’صورتہ‘‘ میں ضمیر کا مرجع آدم علیہ السلام کی ذات ہے۔ اس پر اعتراض وارد ہوتا ہے کہ ’’آدم کو اس کی صورت میں پیدا کیا‘‘ بے معنی سی بات ہے اور تحصیل حاصل ہے جس کی چنداں ضرورت نہیں۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا ہے:اللہ تعالیٰ نے تمام حیوانات جن کے جسم بڑھتے ہیں، ان کی تخلیق کا سلسلہ تناسل کے ذریعے سے بنایا ہے اور وہ تخلیق کے مراحل، نطفہ، علقہ، مضعہ وغیرہ سے گزر کر پیدا ہوتے ہیں، آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ان تمام عوارض سے پاک رکھا اور خصوصی طور پر اہتمام کے ساتھ ان کی تخلیق فرمائی۔ اس کی تائید صحیحین کی ایک روایت سے بھی ہوتی ہے۔ ((خلق اللّٰه آدم علی صورته، طوله سِتُّون ذراعًا....)) ’’اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو ان کی خصوصی صورت میں پیدا فرمایا اس طرح کہ ان کا قد ساٹھ ہاتھ تھا....۔‘‘ (الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان:۸؍۱۲،۱۳) دوسرے معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ’’اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنی صورت میں پیدا کیا ہے۔‘‘ یہ معنی کئی لحاظ سے مرجوح ہیں: ۱۔ اس طرح تشبیہ لازم آتی ہے جو کہ کفر ہے اور ارشاد باری تعالیٰ ہے:لَیْسَ کَمِثْلِهٖ شَیْئٌ اس کی کوئی مثال نہیں۔ ۲۔ علی صورتہ میں ضمیر کا مرجع اصولی طور پر قریب ہونا چاہیے اور وہ لفظ آدم ہے نہ کہ لفظ اللہ۔ ۳۔ جس روایت میں ’’علی صورۃ الرحمٰن‘‘ کے الفاظ ہیں، وہ منکر ہے جیسا کہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے سلسلہ الاحادیث الضعیفہ رقم:۱۱۷۶ میں اس پر تفصیلی کلام کیا ہے۔ (۳) دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس انداز سے گالی دینے والا سیدنا آدم علیہ السلام کو بھی گالی دیتا ہے کیونکہ ہر انسان کا چہرہ بہرحال آدم علیہ السلام سے ملتا جلتا ہے۔