الادب المفرد - حدیث 154

كِتَابُ بَابُ مَنْ مَاتَ لَهُ سَقْطٌ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((مَا تَعُدُّونَ فِيكُمُ الرَّقُوبَ؟)) قَالُوا: الرَّقُوبُ الَّذِي لَا يُولَدُ لَهُ، قَالَ: ((لَا، وَلَكِنَّ الرَّقُوبَ الَّذِي لَمْ يُقَدِّمْ مِنْ وَلَدِهِ شَيْئًا))

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 154

کتاب اس عورت کا بیان جس کا ادھورا بچہ ضائع ہو جائے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تم رقوب کسے کہتے ہو؟‘‘ انہوں نے عرض کیا:جس کی اولاد نہ ہو وہ رقوب ہے۔ آپ نے فرمایا:’’حقیقتاً لا ولد وہ ہے جس نے کسی اولاد کو آگے نہ بھیجا ہو۔‘‘
تشریح : عربی زبان میں ’’رقوب‘‘ اس مرد اور عورت کو کہتے ہیں جن کی اولاد زندہ نہ رہتی ہو۔ یہ رقیب سے مأخوذ ہے کیونکہ یہ بھی بچے کے مرنے کا انتظار کرتے ہیں۔ دنیاوی طور پر بلاشبہ رقوب وہی ہے جو لا ولد ہو لیکن یہ بہت بڑے اجر کا مستحق ہونے کی وجہ سے حقیقی معنوں میں اولاد والا ہے۔ کیونکہ اولاد کا دنیاوی فائدہ اس کے اخروی فائدے سے کہیں کم ہے۔ اور جو آخرت کے ثواب سے محروم رہا حقیقتاً وہی محروم اور بے اولاد ہے۔ اس حدیث میں صبر کرنے کی ترغیب بھی ہے۔
تخریج : صحیح:أخرجه مسلم، البر والصلة، الأدب، باب فضل من یملك نفسه عند الغضب:۲۶۰۸۔ وأحمد:۳۶۲۶۔ الصحیحة:۳۴۰۶۔ عربی زبان میں ’’رقوب‘‘ اس مرد اور عورت کو کہتے ہیں جن کی اولاد زندہ نہ رہتی ہو۔ یہ رقیب سے مأخوذ ہے کیونکہ یہ بھی بچے کے مرنے کا انتظار کرتے ہیں۔ دنیاوی طور پر بلاشبہ رقوب وہی ہے جو لا ولد ہو لیکن یہ بہت بڑے اجر کا مستحق ہونے کی وجہ سے حقیقی معنوں میں اولاد والا ہے۔ کیونکہ اولاد کا دنیاوی فائدہ اس کے اخروی فائدے سے کہیں کم ہے۔ اور جو آخرت کے ثواب سے محروم رہا حقیقتاً وہی محروم اور بے اولاد ہے۔ اس حدیث میں صبر کرنے کی ترغیب بھی ہے۔