الادب المفرد - حدیث 138

كِتَابُ بَابُ كُنَّ لِلْيَتِيمِ كَالْأَبِ الرَّحِيمِ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبْزَى قَالَ: قَالَ دَاوُدُ: ((كُنَّ لِلْيَتِيمِ كَالْأَبِ الرَّحِيمِ، وَاعْلَمْ أَنَّكَ كَمَا تَزْرَعُ كَذَلِكَ تَحْصُدُ، مَا أَقْبَحَ الْفَقْرَ بَعْدَ الْغِنَى، وَأَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ - أَوْ أَقْبَحُ مِنْ ذَلِكَ - الضَّلَالَةُ بَعْدَ الْهُدَى، وَإِذَا وَعَدْتَ صَاحِبَكَ فَأَنْجِزْ لَهُ مَا وَعَدْتَهُ، فَإِنْ لَا تَفْعَلْ يُورِثُ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ، وَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ صَاحِبٍ إِنْ ذَكَرْتَ لَمْ يُعِنْكَ، وَإِنْ نَسِيتَ لَمْ يُذَكِّرْكَ))

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 138

کتاب یتیم کے لیے رحم دل باپ کی طرح ہو جاؤ حضرت عبدالرحمن بن ابزی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ داؤد علیہ السلام نے فرمایا:یتیم کے لیے رحم دل باپ کی طرح ہو جاؤ اور جان لو کہ جو تم بوؤ گے وہی کاٹو گے۔ تونگری کے بعد فقیری کس قدر بری ہے! اس سے بھی زیادہ یا بدترین ہدایت کے بعد گمراہی ہے۔ اور جب تم کسی ساتھی سے وعدہ کرو تو اسے پورا کرو کیونکہ اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو تم میں باہم بغض و عداوت پیدا ہو جائے گا اور ایسے دوست سے اللہ کی پناہ طلب کرو جو ضرورت پڑھنے پر تیری اعانت نہ کرے اور اگر تو بھول جائے تو تجھے یاد نہ دلائے۔
تشریح : (۱)یہ روایت اسرائیلیات میں سے ہے اور سابقہ انبیاء کی وہ روایات جو شریعت اسلامیہ سے ٹکراتی نہ ہوں خصوصاً ترغیب و ترہیب میں، تو ان کا بیان کرنا جائز ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے۔ ((حَدِّثُوْا عَنْ بَنِی اِسرائیل فان فیهم الأعَاجیب....))’’بنی اسرائیل سے بیان کیا کرو کیونکہ ان میں حیرت انگیز حادثات رونما ہوئے ہیں۔‘‘ (الصحیحة للالباني) مذکورہ روایت تعلیمات اسلام کی تائید کرتی ہے۔ اس لیے اس کا صحیح ہونا قرین قیاس ہے۔ (۲) اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص کسی یتیم کا کفیل ہو اسے نہ صرف باپ بلکہ رحم دل باپ کا کردار ادا کرنا چاہیے اور حتی الوسع یتیم کے ساتھ نرمی کرنی چاہیے۔ اور یہ ذہن نشین رہے کہ دنیا میں جس قدر مشفقانہ رویہ یتیم کے ساتھ ہوگا اللہ تعالیٰ روز قیامت اس کے ساتھ ایسا ہی معاملہ فرمائے گا۔ نیز اس جملہ ’’جو بوؤ گے سو کاٹو گے‘‘ میں عملی زندگی کی ترغیب ہے کہ محض تمناؤں سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ اللہ کا فضل و احسان بھی نیکو کاروں کے شامل حال ہوگا۔ حدیث نبوی ہے۔ ’’جس طرح جھاؤ کے درخت سے انگور حاصل نہیں ہوتے، اسی طرح نیکوکار فاسق و فاجر لوگوں کے ساتھ نہیں ہوں گے دونوں میں سے جس رستے کا چاہو انتخاب کرلو۔ لوگ اپنے (اچھے یا برے)ہم مشربوں کے ساتھ ہی ہوں گے۔‘‘ (الصحیحة للألباني، حدیث:۲۰۴۶) مطلب یہ ہے کہ انسان کو برے اعمال کرکے خیر کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ (۳) پھر ہدایت ملنے کے بعد گمراہی کی زندگی اختیار کرنے کی قباحت کا ذکر کیا اور اس کے لیے ایک عام واقعاتی حادثے کا ذکر کیا کہ اگر کسی کو مالداری کے بعد فقر آجائے تو اس پر کس قدر گراں گزرتا ہے اور انسان کتنی مشکلات کا شکار ہوجاتا ہے حالانکہ دینی طور پر دیوالیہ ہوجانا دنیاوی طور پر دیوالیہ ہونے سے زیادہ برا ہے۔ کئی لوگ مالی مشکلات کا شکار ہوں تو دین کو بھی خیر باد کہہ دیتے ہیں، انہیں یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ مال نہ رہنے سے وہ جس قدر پشیمان ہوتے ہیں اور ہر وقت انہیں فقر کا ڈر رہتا ہے اس سے کہیں زیادہ دین کی فکر کرنی چاہیے۔ (۴) وعدہ خلافي کی عادت نفاق کی نشانی ہے اور نفاق سے لوگ نفرت کرتے ہیں اس لیے اس کا نتیجہ دشمنی اور عداوت کی صورت میں نکلتا ہے حتی کہ دوستی دشمنی میں بدل جاتی ہے۔ (۵) آخر میں برے دوستوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنے کی ترغیب ہے۔ اور برے دوست وہ ہوتے ہیں جو مشکل گھڑی میں کام نہ آئیں اور غلط بات پر تنبیہ نہ کریں۔ ہر درست اور غلط بات کی تصدیق کرنے والا اور غلط بات سے نہ روکنے والا دوست کبھی مخلص نہیں ہوسکتا۔
تخریج : صحیح:رواہ أبو عبید في المواعظ:۵۳۔ وابن ابي الدنیا في إصلاح المال:۴۴۶۔ وفي النفقة علی العیال:۶۱۹۔ ومعمر بن راشد في الجامع:۲۰۵۹۳۔ والبیهقي في الشعب:۱۰۵۲۸۔ (۱)یہ روایت اسرائیلیات میں سے ہے اور سابقہ انبیاء کی وہ روایات جو شریعت اسلامیہ سے ٹکراتی نہ ہوں خصوصاً ترغیب و ترہیب میں، تو ان کا بیان کرنا جائز ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے۔ ((حَدِّثُوْا عَنْ بَنِی اِسرائیل فان فیهم الأعَاجیب....))’’بنی اسرائیل سے بیان کیا کرو کیونکہ ان میں حیرت انگیز حادثات رونما ہوئے ہیں۔‘‘ (الصحیحة للالباني) مذکورہ روایت تعلیمات اسلام کی تائید کرتی ہے۔ اس لیے اس کا صحیح ہونا قرین قیاس ہے۔ (۲) اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص کسی یتیم کا کفیل ہو اسے نہ صرف باپ بلکہ رحم دل باپ کا کردار ادا کرنا چاہیے اور حتی الوسع یتیم کے ساتھ نرمی کرنی چاہیے۔ اور یہ ذہن نشین رہے کہ دنیا میں جس قدر مشفقانہ رویہ یتیم کے ساتھ ہوگا اللہ تعالیٰ روز قیامت اس کے ساتھ ایسا ہی معاملہ فرمائے گا۔ نیز اس جملہ ’’جو بوؤ گے سو کاٹو گے‘‘ میں عملی زندگی کی ترغیب ہے کہ محض تمناؤں سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ اللہ کا فضل و احسان بھی نیکو کاروں کے شامل حال ہوگا۔ حدیث نبوی ہے۔ ’’جس طرح جھاؤ کے درخت سے انگور حاصل نہیں ہوتے، اسی طرح نیکوکار فاسق و فاجر لوگوں کے ساتھ نہیں ہوں گے دونوں میں سے جس رستے کا چاہو انتخاب کرلو۔ لوگ اپنے (اچھے یا برے)ہم مشربوں کے ساتھ ہی ہوں گے۔‘‘ (الصحیحة للألباني، حدیث:۲۰۴۶) مطلب یہ ہے کہ انسان کو برے اعمال کرکے خیر کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ (۳) پھر ہدایت ملنے کے بعد گمراہی کی زندگی اختیار کرنے کی قباحت کا ذکر کیا اور اس کے لیے ایک عام واقعاتی حادثے کا ذکر کیا کہ اگر کسی کو مالداری کے بعد فقر آجائے تو اس پر کس قدر گراں گزرتا ہے اور انسان کتنی مشکلات کا شکار ہوجاتا ہے حالانکہ دینی طور پر دیوالیہ ہوجانا دنیاوی طور پر دیوالیہ ہونے سے زیادہ برا ہے۔ کئی لوگ مالی مشکلات کا شکار ہوں تو دین کو بھی خیر باد کہہ دیتے ہیں، انہیں یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ مال نہ رہنے سے وہ جس قدر پشیمان ہوتے ہیں اور ہر وقت انہیں فقر کا ڈر رہتا ہے اس سے کہیں زیادہ دین کی فکر کرنی چاہیے۔ (۴) وعدہ خلافي کی عادت نفاق کی نشانی ہے اور نفاق سے لوگ نفرت کرتے ہیں اس لیے اس کا نتیجہ دشمنی اور عداوت کی صورت میں نکلتا ہے حتی کہ دوستی دشمنی میں بدل جاتی ہے۔ (۵) آخر میں برے دوستوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنے کی ترغیب ہے۔ اور برے دوست وہ ہوتے ہیں جو مشکل گھڑی میں کام نہ آئیں اور غلط بات پر تنبیہ نہ کریں۔ ہر درست اور غلط بات کی تصدیق کرنے والا اور غلط بات سے نہ روکنے والا دوست کبھی مخلص نہیں ہوسکتا۔