الادب المفرد - حدیث 131

كِتَابُ بَابُ فَضْلِ مَنْ يَعُولُ يَتِيمًا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((السَّاعِي عَلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمَسَاكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَكَالَّذِي يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ))

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 131

کتاب یتیم کی پرورش کی فضیلت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں (کہ آپ نے فرمایا:)’’بے سہارا خواتین اور مساکین کے لیے دوڑ دھوپ کرنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے اور اس شخص کی طرح ہے جو (مسلسل)دن کو روزہ رکھتا ہو اور رات کو قیام کرتا ہو۔‘‘
تشریح : (۱)’’أرمله‘‘ کا ترجمہ عموماً ’’بیوہ‘‘ کیا جاتا ہے لیکن یہ لفظ ہر بے سہارا عورت کے لیے بولا جاتا ہے خواہ اس کا خاوند فوت ہوگیا ہو یا سرے سے ہی نہ ہو۔ اور مسکین کی تعریف یہ ہے کہ جس کے پاس کچھ نہ کچھ ہو مگر ضرورت پوری نہ ہوتی ہو۔ آپ نے ایک حدیث میں فرمایا:مسکین لوگوں کے گھروں کے چکر لگانے والے کو نہیں کہتے حقیقتاً مسکین وہ ہے کہ جس کی ضرورت پوری نہ ہو اور اس کی ظاہری صورت سے بھی معلوم نہ ہو کہ یہ محتاج ہے کہ اس پر صدقہ کیا جائے اور نہ وہ لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرتا ہو۔ (صحیح البخاري، الزکاة، حدیث:۱۴۷۹) (۲) بے سہارا خواتین، بچوں اور ضرورت مندوں کی فلاح و بہبود اور بہتری کے لیے محنت و کوشش کرنا بہت عظیم کام ہے۔ اپنے لیے تو ہر کوئی جیتا ہے اصل بات یہ ہے کہ انسان دوسروں کے لیے زندہ رہے۔ جنت کے طلب گاروں کو نماز روزہ کے علاوہ اس میدان میں بھی آگے بڑھنا چاہیے کہ یہی عظیم راستہ ہے جس پر چل کر مجاہدین اور عبادت گزاروں کے درجات تک پہنچا جاسکتا ہے۔ (۳) بے آسرا لوگوں کی مدد ونصرت کو جہاد في سبیل اللہ اور دن کے روزے، رات کے قیام سے تشبیہ دی گئی ہے جس سے معلوم ہوا کہ جہاد في سبیل اللہ، روزہ اور تہجد اس سے افضل عمل ہے کیونکہ تشبیہ افضل چیز کے ساتھ ہی دی جاتی ہے۔ (شرح صحیح الأدب المفرد، لحسن العودة)
تخریج : صحیح:أخرجه البخاري، النفقات، باب فضل النفقة علی الأهل:۵۳۵۳۔ ومسلم:۲۹۸۲۔ والترمذي:۱۹۶۹۔ والنسائي:۲۵۷۷۔ وابن ماجة:۲۱۴۰۔ (۱)’’أرمله‘‘ کا ترجمہ عموماً ’’بیوہ‘‘ کیا جاتا ہے لیکن یہ لفظ ہر بے سہارا عورت کے لیے بولا جاتا ہے خواہ اس کا خاوند فوت ہوگیا ہو یا سرے سے ہی نہ ہو۔ اور مسکین کی تعریف یہ ہے کہ جس کے پاس کچھ نہ کچھ ہو مگر ضرورت پوری نہ ہوتی ہو۔ آپ نے ایک حدیث میں فرمایا:مسکین لوگوں کے گھروں کے چکر لگانے والے کو نہیں کہتے حقیقتاً مسکین وہ ہے کہ جس کی ضرورت پوری نہ ہو اور اس کی ظاہری صورت سے بھی معلوم نہ ہو کہ یہ محتاج ہے کہ اس پر صدقہ کیا جائے اور نہ وہ لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرتا ہو۔ (صحیح البخاري، الزکاة، حدیث:۱۴۷۹) (۲) بے سہارا خواتین، بچوں اور ضرورت مندوں کی فلاح و بہبود اور بہتری کے لیے محنت و کوشش کرنا بہت عظیم کام ہے۔ اپنے لیے تو ہر کوئی جیتا ہے اصل بات یہ ہے کہ انسان دوسروں کے لیے زندہ رہے۔ جنت کے طلب گاروں کو نماز روزہ کے علاوہ اس میدان میں بھی آگے بڑھنا چاہیے کہ یہی عظیم راستہ ہے جس پر چل کر مجاہدین اور عبادت گزاروں کے درجات تک پہنچا جاسکتا ہے۔ (۳) بے آسرا لوگوں کی مدد ونصرت کو جہاد في سبیل اللہ اور دن کے روزے، رات کے قیام سے تشبیہ دی گئی ہے جس سے معلوم ہوا کہ جہاد في سبیل اللہ، روزہ اور تہجد اس سے افضل عمل ہے کیونکہ تشبیہ افضل چیز کے ساتھ ہی دی جاتی ہے۔ (شرح صحیح الأدب المفرد، لحسن العودة)