الادب المفرد - حدیث 1261

كِتَابُ بَابُ قِمَارُ الدِّيكِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ قَالَ: حَدَّثَنِي مَعْنٌ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهُدَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلَيْنِ اقْتَمَرَا عَلَى دِيكَيْنِ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ فَأَمَرَ عُمَرُ بِقَتْلِ الدِّيَكَةِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: أَتَقْتُلُ أُمَّةً تُسَبِّحُ؟ فَتَرَكَهَا

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 1261

کتاب مرغ کے ذریعے جوا کھیلنا ربیعہ بن عبداللہ بن ہدیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں دو مرغوں پر جوا لگایا، چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مرغوں کو مارنے کا حکم دیا تو ایک انصاری آدمی نے عرض کیا:کیا آپ ایسی مخلوق کو قتل کر رہے ہیں جو اللہ کی تسبیح کرتی ہے؟ یہ بات سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مرغوں کو قتل کا ارادہ ترک کر دیا۔
تشریح : اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ اس میں ابن منکدر راوی لین الحدیث ہے۔ تاہم مرغ لڑانے پر جوا لگانے کا رواج ناجائز ہے۔
تخریج : ضعیف الإسناد موقوفا:أخرجه أبو الشیخ في العظمة:۱۲۳۲۔ اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ اس میں ابن منکدر راوی لین الحدیث ہے۔ تاہم مرغ لڑانے پر جوا لگانے کا رواج ناجائز ہے۔