الادب المفرد - حدیث 1257

كِتَابُ بَابُ حَلْقِ الْعَانَةِ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجِرْمِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ، وَالسِّوَاكُ "

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 1257

کتاب زیر ناف بال مونڈنے کا بیان سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’پانچ چیزیں فطرت سے ہیں:مونچھیں کاٹنا، ناخن تراشنا، زیر ناف بال مونڈنا، بغلوں کے بال اکھیڑنا اور مسواک کرنا۔‘‘
تشریح : (۱)اس روایت میں مسواک کا ذکر منکر ہے اور صحیح یہ ہے کہ پانچویں چیز ختنہ کرنا ہے۔ (۲) فطرت سے مراد وہ حالت جس میں انسان اپنے خالق کو پہچان سکے اور دین اسلام کو اختیار کرے نیز یہ اور سابقہ تمام آسمانی مذاہب کا حصہ رہے ہیں۔ (۳) شرم گاہ اور اس کے ارد گرد سے بال صاف کرنا حلق عانہ کہلاتا ہے۔ (۴) یہ کام جب ضرورت محسوس ہوکر لینے چاہئیں، تاہم ان کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے۔ (۵) بغلوں کے بال نوچنا افضل ہے، نیز عورتوں کے لیے بھی یہی حکم ہے۔
تخریج : منکر بذکر السواك فیه، الضعیفة:۶۳۵۰۔ والمحفوظ بلفظ، ’’الختان‘‘ کما سیئاتي برقم:۱۲۹۲۔ ن۔ (۱)اس روایت میں مسواک کا ذکر منکر ہے اور صحیح یہ ہے کہ پانچویں چیز ختنہ کرنا ہے۔ (۲) فطرت سے مراد وہ حالت جس میں انسان اپنے خالق کو پہچان سکے اور دین اسلام کو اختیار کرے نیز یہ اور سابقہ تمام آسمانی مذاہب کا حصہ رہے ہیں۔ (۳) شرم گاہ اور اس کے ارد گرد سے بال صاف کرنا حلق عانہ کہلاتا ہے۔ (۴) یہ کام جب ضرورت محسوس ہوکر لینے چاہئیں، تاہم ان کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے۔ (۵) بغلوں کے بال نوچنا افضل ہے، نیز عورتوں کے لیے بھی یہی حکم ہے۔