الادب المفرد - حدیث 1254

كِتَابُ بَابُ تَحْنِيكِ الصَّبِيِّ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: ذَهَبْتُ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ وُلِدَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَبَاءَةٍ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ، فَقَالَ: ((مَعَكَ تَمَرَاتٌ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، فَنَاوَلْتُهُ تَمَرَاتٍ فَلَاكَهُنَّ، ثُمَّ فَغَرَ فَا الصَّبِيِّ، وَأَوْجَرَهُنَّ إِيَّاهُ، فَتَلَمَّظَ الصَّبِيُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((حُبَّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ)) ، وَسَمَّاهُ: عَبْدَ اللَّهِ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 1254

کتاب بچے کو ’’گڑھتی‘‘ دینے کا بیان سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں عبداللہ بن ابی طلحہ کو اس کی پیدائش کے روز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا جبکہ آپ اس وقت چغہ پہنے اپنے ایک اونٹ کو قطران مل رہے تھے۔ آپ نے پوچھا:’’تیرے پاس کھجوریں ہیں؟‘‘ میں نے عرض کیا:جی ہاں! میں نے آپ کو کھجوریں پکڑا دیں تو آپ نے ان کو چبایا، پھر بچے کا منہ کھول کر اس میں ڈال دیں۔ بچے نے منہ چلانا شروع کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’کھجور انصار کو پسند ہے۔‘‘ اور آپ نے اس بچے کا نام عبداللہ رکھا۔
تشریح : تحنیک (گڑھتی)مسنون ہے۔ کوشش کرنی چاہیے کہ کسی نیک آدمی سے گڑھتی دلوائی جائے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ گڑھتی دینے والا کھجور وغیرہ چبا کر اس میں لعاب دہن شامل کرکے بچے کے تالو کے ساتھ مل دے۔
تخریج : صحیح:أخرجه مسلم، کتاب الأدب:۲۱۴۴۔ وأبي داود:۴۹۵۱۔ وہو في صحیح المصنف نحوہ:۵۴۷۰۔ تحنیک (گڑھتی)مسنون ہے۔ کوشش کرنی چاہیے کہ کسی نیک آدمی سے گڑھتی دلوائی جائے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ گڑھتی دینے والا کھجور وغیرہ چبا کر اس میں لعاب دہن شامل کرکے بچے کے تالو کے ساتھ مل دے۔