الادب المفرد - حدیث 125

كِتَابُ بَابُ شِكَايَةِ الْجَارِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي عُمَرَ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: شَكَا رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَارَهُ، فَقَالَ: ((احْمِلْ مَتَاعَكَ فَضَعْهُ عَلَى الطَّرِيقِ، فَمَنْ مَرَّ بِهِ يَلْعَنُهُ)) ، فَجَعَلَ كُلُّ مَنْ مَرَّ بِهِ يَلْعَنُهُ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا لَقِيتُ مِنَ النَّاسِ؟ فَقَالَ: ((إِنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ فَوْقَ لَعْنَتِهِمْ)) ، ثُمَّ قَالَ لِلَّذِي شَكَا: ((كُفِيتَ)) أَوْ نَحْوَهُ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 125

کتاب ہمسائے کی شکایت کرنے کا بیان حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور اپنے پڑوسی کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا:’’اپنا سامان اٹھاؤ اور راستے پر رکھ دو۔ جو گزرے گا اسے لعن طعن کرے گا‘‘ (اس نے ایسے ہی کیا)تو جو بھی وہاں سے گزرتا اسے برا بھلا کہتا۔ وہ (تنگ کرنے والا)نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا:یہ لوگ میرے ساتھ کیا برتاؤ کر رہے ہیں (کہ ہر شخص مجھ پر لعنت کر رہا ہے)آپ نے ارشاد فرمایا:’’ان کی لعنت کے ساتھ ساتھ اللہ کی لعنت بھی تجھ پر ہے۔‘‘ (اس نے دوبارہ ایسا نہ کرنے کا وعدہ کیا)پھر آپ نے شکایت کرنے والے سے فرمایا:’’(اب اپنا سامان اٹھالو)تیری خلاصی ہوگئی۔‘‘
تخریج : حسن صحیح:أخرجه الحاکم:۴؍ ۱۶۶۔ والبیهقي في شعب الایمان:۹۵۴۸۔ والطبراني في الکبیر:۲۲؍ ۱۳۴۔ صحیح الترغیب:۲۵۵۹۔