الادب المفرد - حدیث 1208

كِتَابُ بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ شُمَيْطٍ، أَوْ سُمَيْطٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: النَّوْمُ عِنْدَ الذِّكْرِ مِنَ الشَّيْطَانِ، إِنْ شِئْتُمْ فَجَرِّبُوا، إِذَا أَخَذَ أَحَدُكُمْ مَضْجَعَهُ وَأَرَادَ أَنْ يَنَامَ فَلْيَذْكُرِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 1208

کتاب بستر پر جانے کی دعا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ذکر کے وقت نیند شیطان کی طرف سے ہے، اگر تم چاہو تو تجربہ کرو۔ جب تم میں سے کوئی بستر پر چلا جائے اور سونے کا ارادہ کرے تو اللہ عزوجل کا ذکر کرے۔
تشریح : مطلب یہ ہے کہ کام کاج سے فارغ ہوکر جب سونے کا ارادہ ہو تو سونے کے اذکار اس وقت کرنے چاہئیں۔ شیطان عموماً اللہ کے ذکر سے غافل کر دیتا ہے اس طرح کہ انسان اذکار کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اسے فوراً نیند آجاتی ہے۔
تخریج : صحیح الإسناد موقوفا۔ مطلب یہ ہے کہ کام کاج سے فارغ ہوکر جب سونے کا ارادہ ہو تو سونے کے اذکار اس وقت کرنے چاہئیں۔ شیطان عموماً اللہ کے ذکر سے غافل کر دیتا ہے اس طرح کہ انسان اذکار کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اسے فوراً نیند آجاتی ہے۔